٢٨٩١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن الشعبي عن مسروق قال: في لسان الأخرس حكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق کا ارشاد مروی ہے کہ گونگے کی زبان میں فیصلہ ہے۔
٢٨٩١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن هشام الدستوائي عن حماد عن إبراهيم: في لسان الأخرس الدية كاملة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ گونگے کی زبان میں پوری دیت ہوگی۔
٢٨٩١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم: في لسان الأخرس حكم، وفي ذكر (الخصي) (١) حكم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ گونگے کی زبان کے بدلہ میں فیصلہ اور خصی آدمی کے عضو تناسل کے بدلہ میں بھی فیصلہ ہے۔
٢٨٩١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن قتادة قال: في لسان الأخرس [مما في لسان الصحيح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ کا ارشاد ہے کہ گونگے کی زبا ن میں صحیح زبان کی دیت کا تہائی حصہ ہے۔
٢٨٩١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن عمرو عن الحسن قال: في لسان الأخرس] (١) الدية كاملة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ گونگے کی زبان کے بدلہ میں پوری دیت ہوگی۔
٢٨٩١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: في ذكر الذي لا يأتي النساء مثلٌ ما في ذكر الذي يأتي النساء؟ قال (لي) (١): نعم، و (قال) (٢) (لي) (٣): أرأيت الذي (قد) (٤) ذهب ذلك منه أليس يوفي نذره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج کا ارشاد ہے کہ میں نے عطاء سے سوال کیا کہ ایسے شخص کے عضو تناسل کے بدلہ میں کہ جو عورتوں کے پاس نہ آسکتا ہو اتنی ہی دیت ہوگی کہ جتنی اس شخص کے بدلہ میں ہے کہ جو عورتوں کے پاس آسکتا ہو ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں اور فرمایا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ جس شخص کا عضو تناسل ضائع چکا ہو تو کیا اس کی نذر کو پورا نہیں کیا جاتا ؟