٢٨٨٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر عن مسروق: في اليد الشلاء إذا قطعت حكم، وفي الضرس (حكم) (١) -يعني المأكول-.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق سے مروی ہے کہ شل ہاتھ اگر کٹ جائے تو اس میں فیصلہ ہے اور کھوکھلی ڈاڑھ میں بھی فیصلہ ہے۔
٢٨٨٦١ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع قال) (١): حدثنا هشام الدستوائي عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: في اليد (الشلاء) (٢) إذا قطعت ثلث الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب کا ارشاد ہے کہ شل ہاتھ میں جب کٹ جائے تو تہائی دیت ہوگی۔
٢٨٨٦٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم قال: في اليد الشلاء إذا قطعت ثلث الدية] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے فرمایا جب شل ہاتھ کٹ جائے تو اس میں تہائی دیت ہے۔
٢٨٨٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن ابن بريدة عن يحيى بن يعمر عن ابن عباس عن عمر بن الخطاب قال: في اليد الشلاء إذا قطعت ثلث الدية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب سے مروی ہے کہ شل ہاتھ جب کٹ جائے تو اس میں تہائی دیت ہے۔
٢٨٨٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي هلال عن قتادة عن ابن بريدة عن يحيى بن يعمر عن ابن عباس (قال) (١): في اليد الشلاء إذا قطعت ثلث الدية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ شل ہاتھ جب کٹ جائے تو اس میں تہائی دیت ہے۔
٢٨٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن والشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم، حماد، اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ شل ہاتھ میں دو عادل آدمیوں کا فیصلہ ہوگا۔