کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس سے پوچھا جائے اور یوں کہتا ہے کہ مجھ سے سوال کرو
٢٨١٠٤ - حدثنا غسان بن مضر عن سعيد بن يزيد عن عكرمة قال: ما لكم ⦗٤٥٠⦘ (لا تسألونا) (١) (أفلستم) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ تم سوال نہیں کرتے ؟ کیا تم طالب علم نہیں ہو ؟
٢٨١٠٥ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن سعد بن إبراهيم قال: قال ابن عباس: ما سألني رجل عن مسألة إلا عرفت: فقيه هو أو غير فقيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : مجھ سے کسی بھی شخص نے سوال نہیں کیا مگر میں نے پہچان لیا کہ وہ فقیہ ہے یا غیر فقیہ۔
٢٨١٠٦ - حدثنا (عمر) (١) بن (سعد) (٢) عن سفيان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير قال: ما (٣) أحد يسألني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ارشاد فرمایا : کوئی مجھ سے پوچھنے والا نہیں ؟
٢٨١٠٧ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو قال: قال لنا عروة: ائتوني فتلقوا مني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حضر ت عروہ نے ہمیں ارشاد فرمایا : میرے پاس آؤ اور مجھ سے علم حاصل کرو۔
٢٨١٠٨ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري قال: كان عروة يتألف الناس على حديثه.
مولانا محمد اویس سرور
امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ لوگوں کو اپنی باتوں سے مانوس کرتے تھے۔
٢٨١٠٩ - حدثنا عمر بن سعد عن سفيان عن عبد اللَّه بن السائب عن (زاذان) (١) قال: سألت ابن مسعود عن أشياء ما أحد يسألني عنها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سائب فرماتے ہیں کہ حضرت زاذان نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے حضرت ابن مسعود سے چند اشیاء کے بارے میں پوچھا کہ کسی نے مجھ سے ان کے متعلق سوال نہیں کیا۔
٢٨١١٠ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن خالد (بن عرعرة) (١) قال: أتيت الرحبة فإذا (أنا) (٢) بنفر جلوس قريبًا من ثلاثين أو أربعين رجلًا فقعدت معهم، ⦗٤٥١⦘ فخرج علينا علي، فما رأيته (أنكر) (٣) أحدًا من القوم غيري، فقال: ألا رجل يسألني فينتفع وينتفع جلساؤه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن عرعرہ فرماتے ہیں کہ میں کسی کشادہ میدان میں گیا تو میں نے وہاں تیس یا چالیس کے قریب آدمیوں کو بیٹھا ہوا پایا ، تو میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اتنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے لوگوں میں سے کسی کو میرے سوا نہ پہچانا ہو۔ پھر آپ نے فرمایا : کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو مجھ سے سوال کر کے فائدہ اٹھائے اور اس کے ہمنشین بھی فائدہ اٹھائیں۔
٢٨١١١ - حدثنا ابن عيينة عن يحيى بن سعيد (قال: نراه عن سعيد بن المسيب) (١) قال: لم يكن أحد من أصحاب النبي ﷺ يقول: سلوني إلا علي بن أبي طالب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے سوا کوئی بھی نہیں تھا، جو یوں کہتا ہو کہ مجھ سے سوال کرو۔