٢٧٥١٦ - حدثنا مروان بن معاوية عن محمد بن سوقة قال: أتيت نعيم بن أبي هند فأخرج إليَّ صحيفة فإذا فيها: من أبي عبيدة بن الجراح ومعاذ بن جبل إلى عمر ⦗٢٨٢⦘ ابن الخطاب: سلام (١) عليك أما بعد: فكتب (إليهما) (٢): من عمر بن الخطاب إلى أبي عبيدة بن الجراح ومعاذ بن جبل: سلام (٣) عليكما أما بعد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سوقہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت نعیم بن ابی ھند کے پاس آیا تو آپ نے مجھے ایک صحیفہ نکال کر دکھایا اس میں یوں لکھا ہوا تھا۔ ابو عبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل کی جانب سے حضرت عمر بن خطاب کی طرف ۔ آپ پر سلامتی ہو ۔ اما بعد : حمدو صلوۃ کے بعد اور پھر جب حضرت عمر نے ان دونوں کو خط کا جواب لکھا تو وہ یوں تھا۔ عمر بن خطاب کی جانب سے حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت معاذ بن جبل کی طرف، تم دونوں پر سلام ہو، اما بعد۔
٢٧٥١٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن زكريا (بن) (١) أبي زائدة عن العباس بن (ذريح) (٢) عن الشعبي قال: كتبت عائشة إلى معاوية: أما بعد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت معاویہ کی طرف خط لکھا تو اس میں لکھا : اما بعد۔
٢٧٥١٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: حدثني من قرأ كتاب عثمان أو من قرئ عليه: أما بعد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے حضرت عثمان کا خط پڑھا یا اس پر حضرت عثمان کا خط پڑھا گیا۔ آپ نے یوں لکھا تھا، اما بعد۔
٢٧٥١٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة قال: قرأت رسائل النبي ﷺ كلما انقضت قصة قال: أما بعد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدہ بن سلیمان فرماتے ہیں کہ حضرت ہشام بن عروہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطوط پڑھے جب بھی کوئی بات ختم ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ” اما بعد “
٢٧٥٢٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا زكريا قال: سمعت عامرًا يقول قال زياد: إن (فصل) (١) الخطاب الذي أعطي داود أما بعد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت زیاد نے ارشاد فرمایا : بیشک داؤد کو یہ فصل خطاب عطا کیا گیا تھا ” اما بعد “۔
٢٧٥٢١ - حدثنا عمر بن سعد عن سفيان عن جعفر بن برقان عن عمر بن عبد العزيز أنه كتب في رسالة: أما بعد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے خط میں یوں لکھا ” امابعد “ پھر ارشاد فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطوط میں بھی یوں لکھا ہوتا تھا ” اما بعد “۔
٢٧٥٢٣ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن زيد بن أسلم قال: أرسلني أبي إلى ابن عمر فرأيته يكتب: بسم اللَّه الرحمن الرحيم أما بعد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا میں نے ان کو دیکھا کہ وہ خط لکھ رہے تھے اور یوں لکھا کہ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ أَمَّا بَعْدُ ۔
٢٧٥٢٤ - حدثنا أبو أسامة عن هشام قال: قرأت في رسائل من رسائل النبي ﷺ كلما انقضى امر قال: أما بعد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسامہ فرماتے ہیں کہ حضرت ہشام نے ارشاد فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطوط میں سے کچھ خطوط پڑھے جب بھی کوئی بات مکمل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے : ” اما بعد “۔
٢٧٥٢٥ - حدثنا عمر بن سعد أبو داود عن سفيان عن الأسود بن قيس عن ثعلبة ابن عباد عن سمرة أن النبي ﷺ خطب فقال: "أما بعد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا : ” اما بعد “۔
٢٧٥٢٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان وابن نمير عن هشام بن عروة عن أبيه أن أبا حميد الساعدي حدثه أن النبي ﷺ خطب فقال: "أما بعد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمید الساعدی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا : ” اما بعد “۔
٢٧٥٢٧ - [حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أن النبي ﷺ تكلم فقال: "أما بعد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بات کی اور فرمایا : اما بعد۔
٢٧٥٢٨ - حدثنا (محمد بن) (١) ميمون الزعفراني عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر أن النبي ﷺ خطب فقال: "أما بعد"] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا ” اما بعد “۔
٢٧٥٢٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عبد الملك بن (عمير عن) (١) ربعي بن (حراش) (٢) عن الطفيل بن سخبرة أخ (عائشة) (٣) من الرضاعة أن النبي ﷺ قال: "أما بعد" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طفیل بن سخبرہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی ہیں فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : أَمَّابَعْدُ ۔
٢٧٥٣٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبي (حيان) (١) عن يزيد بن (حيان) (٢) عن (زيد) (٣) بن أرقم أن النبي ﷺ خطبهم فقال: "أما بعد" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو خطبہ دیا اور فرمایا : أَمَّابَعْدُ ۔
٢٧٥٣١ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن ابن أبي ليلى قال: كتب أبو الدرداء إلى مسلمة بن (مخلد) (١) وهو أمير بمصر: أما بعد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے حضرت مسلمہ بن مخلد کو خط لکھا جو کہ مصر کے امیر تھے اور اس میں لکھا : أَمَّابَعْدُ ۔
٢٧٥٣٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى (بن) (١) سعيد عن عبد اللَّه بن (هبيرة) (٢) قال: كتب أبو الدرداء إلى سلمان: أما بعد، (وكتب سلمان إلى أبي الدرداء: أما بعد) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ھبیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے حضرت سلمان کو خط میں لکھا ” اما بعد “ اور حضرت سلمان نے حضرت ابو الدرداء کو خط میں لکھا ” أَمَّا بَعْدُ “۔
٢٧٥٣٣ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل بن أبي خالد عن سعيد بن أبي بردة قال: كتب عمر إلى أبي موسى: أما بعد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابی بردہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط میں یوں لکھا : أَمَّابَعْدُ ۔
٢٧٥٣٤ - حدثنا ابن فضيل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن عبد اللَّه القرشي عن عبد اللَّه بن (عكيم) (١) قال: خطبنا أبو بكر فقال: أما بعد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عکیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : أَمَّابَعْدُ ۔
٢٧٥٣٥ - حدثنا ابن إدريس عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن عمر بن عبد الرحمن ⦗٢٨٦⦘ ابن (دلاف) (٢) عن أبيه عن عم أبيه بلال بن الحارث قال: خطب عمر بن الخطاب فقال: أما بعد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بلال بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے خطبہ دیا اور فرمایا : أَمَّابَعْدُ ۔
٢٧٥٣٦ - حدثنا معاذ [(بن معاذ) (١) عن] (٢) ابن عون عن محمد قال: كتب أبو موسى إلى عامر بن عبد اللَّه الذي كان يدعى (ابن) (٣) عبد (القيس) (٤) أما بعد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
امام محمد فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عامر بن عبد اللہ کو جو حضرت ابن عبد القیس کے نام سے پکارے جاتے تھے کو خط میں یوں لکھا۔ أَمَّابَعْدُ ۔