کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مشرک سے مصافحہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 27384
٢٧٣٨٤ - حدثنا وكيع عن شعبة عن (أبي) (١) عبد اللَّه العسقلاني (قال: أخبرني) (٢) من رأى ابن محيريز يصافح نصرانيًا في مسجد دمشق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد اللہ العسقلانی فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے حضرت ابن محیریز کو دیکھا کہ آپ نے دمشق کی مسجد میں ایک نصرانی سے ہاتھ ملایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27384
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27384، ترقيم محمد عوامة 26239)
حدیث نمبر: 27385
٢٧٣٨٥ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن [أنه كان يكره أن يصافح المسلم اليهودي والنصراني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن بصری مسلمان کے کسی یہودی یا نصرانی سے ہاتھ ملانے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27385
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27385، ترقيم محمد عوامة 26240)
حدیث نمبر: 27386
٢٧٣٨٦ - حدثنا ابن فضيل عن أشعث عن الحسن] (١) قال: إنما المشركون نجس فلا تصافحوهم، فمن صافحهم فليتوضأ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن نے ارشاد فرمایا : بیشک مشرکین تو نجس ہیں ان سے مصافحہ مت کرو، جس شخص نے ان سے مصافحہ کرلیا تو اس کو چاہیے کہ وہ وضو کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27386
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27386، ترقيم محمد عوامة 26241)
حدیث نمبر: 27387
٢٧٣٨٧ - حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء قال: سألته عن مصافحة المجوسي فكره ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے مجوسی سے مصافحہ کرنے کے متعلق سوال کیا ؟ تو آپ نے اس کو مکروہ سمجھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27387
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27387، ترقيم محمد عوامة 26242)