٢٧٣٧٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا غندر عن شعبة عن سماك قال: ⦗٢٤٥⦘ تذاكروا (المصافحة) (٢) فقال النعمان بن حميد: دخلت على سلمان مع خالي عباد ابن شرحبيل، فلما رآه صافحه سلمان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک فرماتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان مصافحہ پر بات چیت ہو رہی تھی کہ حضرت نعمان بن حمید نے فرمایا : کہ میں اپنے ماموں حضرت عباد بن شرحبیل کے ساتھ حضرت سلمان پر داخل ہوا جب آپ نے ان کو دیکھا تو حضرت سلمان نے ان سے مصافحہ کیا۔
٢٧٣٧٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر وابن نمير عن الأجلح عن أبي إسحاق عن البراء قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما من مسلمين يلتقيان فيتصافحان إلا غفر لهما قبل أن يتفرقا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو مسلمان آپس میں ملاقات نہیں کرتے، پھر وہ مصافحہ کرتے ہیں، مگر یہ کہ ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
٢٧٣٧٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حنظلة السدوسي عن أنس قال: قلنا يا رسول اللَّه أيصافح بعضنا بعضا قال: "نعم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم میں سے بعض بعض سے مصافحہ کرلیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔
٢٧٣٧٨ - حدثنا وكيع عن شعبة عن قتادة عن أنس أن (أصحاب) (١) رسول اللَّه ﷺ كان يصافح بعضهم بعضا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے تھے۔
٢٧٣٧٩ - حدثنا وكيع عن شعبة عن غالب قال: قلت للشعبي: إن ابن سيرين كان يكره المصافحة، قال: فقال الشعبي: كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ يتصافحون، وإذا قدم أحدهم من سفر عانق صاحبه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غالب فرماتے ہیں کہ میں نے امام شعبی کے سامنے ذکر کیا کہ حضرت ابن سیرین مصافحہ کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔ اس پر امام شعبی نے فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایک دوسرے سے مصافحہ کیا کرتے تھے اور جب ان میں سے کوئی سفر سے واپس آتا تو وہ اپنے ساتھی سے گلے ملتا تھا۔
٢٧٣٨٠ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: سألت ابن عون عن المصافحة، قال: كان محمد لا يفعله (بنا) (١) ولا (نفعله) (٢) به، (وكان) (٣) إذا مد رجلٌ يده لم يمنع يده من أحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن معاذ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عون سے مصافحہ کے متعلق پوچھا ؟ آپ نے فرمایا : امام محمد ہمارے ساتھ نہیں کرتے تھے اور نہ ہم ان سے کرتے تھے اور جب کوئی آدمی اپنا ہاتھ بڑھا دیتا تو وہ کسی سے اپنا ہاتھ روکتے بھی نہیں تھے۔
٢٧٣٨١ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن (ابن) (١) الأسود قال: إن من تمام التحية المصافحة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت ابن الاسود نے ارشاد فرمایا : بیشک مصافحہ کرنا سلام کو مکمل کرتا ہے۔
٢٧٣٨٢ - [حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن الأسود قال: إن من تمام التحية المصافحة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت اسود نے ارشاد فرمایا : بیشک مصافحہ کرنا سلام کو مکمل کرنا ہے۔
٢٧٣٨٣ - حدثنا ابن مبارك عن يحيى (بن) (١) أيوب عن عبيد اللَّه بن زحر عن علي بن (يزيد) (٢) عن القاسم عن أبي أمامة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (تمام) (٣) ⦗٢٤٧⦘ تحيتكم المصافحة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا مکمل سلام مصافحہ ہے۔