کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو دو چہروں والے کے بارے میں منقول ہیں
٢٧١٠٧ - حدثنا شريك عن (الركين) (١) عن (نعيم) (٢) بن حنظلة عن عمار قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من كان له وجهان في الدنيا كان له يوم القيامة لسانان من نار" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشا دفرمایا : جس شخص کے دنیا میں دو چہرے ہوں گے تو قیامت کے دن اس کی آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔
٢٧١٠٨ - حدثنا وكيع عن عبد اللَّه بن عامر عن الزهري أن رجلًا سلم على النبي (ثلاث) (١) مرات فلم يرد عليه فقيل له: لم؟ فقال: "إنه ذو وجهين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
امام زہری فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین مرتبہ سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جواب نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک وہ دو رخا شخص ہے۔
٢٧١٠٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة (قال) (١): قال رسول اللَّه ﷺ: "تجد من شر الناس (عند اللَّه) (٢) يوم القيامة (ذا) (٣) الوجهين" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ! تو قیامت کے دن اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے بدترین شخص دو چہرے والوں کو پائے گا۔
٢٧١١٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا سفيان عن ابيه عن عكرمة قال: ⦗١٧٣⦘ (قال) (١) (لقمان) (٢): ذو الوجهين (٣) لا يكون عند اللَّه أمينًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت لقمان نے ارشاد فرمایا : دو چہرے والا شخص اللہ کے نزدیک امانت دار نہیں ہوگا۔
٢٧١١١ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن مالك بن أسماء (بن) (١) خارجة عن أبيه قال: سمعت ابن مسعود يقول: إن (ذا اللسانين) (٢) له لسانان من نار يوم القيامة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن اسماء بن خارجہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یوں فرماتے ہوئے سُنا : بیشک دو زبانوں والے کی قیامت کے دن آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔