کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ کہتے ہیں جب تک تم اسراف اور تکبر نہ کرو تو جو چاہو پہنو
٢٦٤٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) همام عن قتادة عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كلوا واشربوا وتصدقوا والبسوا ما لم يخالطه إسراف (ولا مخيلة) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب، اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کھاؤ، پیو اور صدقہ کرو۔ جب تک لباس میں اسراف اور تکبر نہ ہو تو اس کو پہن لو۔ “
٢٦٤٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة عن طاوس عن ابن عباس قال: كل ما شئت، والبس ما شئت، ما أخطأتك خلتان: سرف أو مخيلة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ جو چاہو تم کھاؤ۔ اور جو چاہو تم پہنو جب تک کہ دو باتیں نہ ہوں۔ فضول خرچی یا تکبر۔
٢٦٤٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن مغيرة عن إبراهيم في قوله (تعالى) (١): ﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا﴾ [الفرقان: ٦٧]، قال: لا (تجيعهم) (٢) ولا تعريهم، ولا تنفق نفقة يقول الناس: إنك أسرفت فيها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ، ارشاد خداوندی { وَالَّذِینَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْنَ ذَلِکَ قَوَامًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں : نہ ان کو بھوکا رکھے اور نہ ان کو لباس سے محروم کرے اور نہ ان پر ایسا خرچ کرتا ہے کہ لوگ کہنے لگیں۔ تم خرچہ میں اسراف کرتے ہو۔
٢٦٤٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن عثمان الحاطبي قال: أخبرني (من رأى) (١) على عثمان ثوبًا قوهيًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن حاطبی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں ۔ مجھے اس آدمی نے یہ بات بتائی کہ جس نے حضرت عثمان پر ایک سفید رنگ کا کپڑا دیکھا تھا۔
٢٦٤٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن إسماعيل بن سميع عن أبي رزين قال: خرج علي بن أبي طالب وعليه قميص من (قهز) (١)، وعليه (بردان قطريان) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب باہر تشریف لائے اور ان پر ریشم ملے ہوئے سفید کپڑے کی قمیص تھی۔ اور ان پر دو سرخ رنگ کے ٹھکے ہوئے کپڑے کی چادریں تھیں۔
٢٦٤٩٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن علي بن صالح عن (١) عطاء (أبي) (٢) محمد قال: رأيت على علي قميصًا من هذه الكرابيس غير غسيل] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ابی محمد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ان موٹے سوتی کپڑوں سے بنی ہوئی دُھلائی کے بغیر قمیص دیکھی۔
٢٦٤٩٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ميمون أبي القاسم قال: رأيت على عطاء قميص (زُطيًا) (١)] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون ابو القاسم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء پر زطی قمیص دیکھی۔
٢٦٤٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن خالد أبي العلاء قال: رأيت على الحسن قميصًا (زطيًا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابو العلاء سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن (کے جسم) پر زطی قمیص دیکھی۔
٢٦٤٩٩ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شمعبة عن الحكم قال: رأيت عليه) (١) قميصًا غليظا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم کے بارے میں روایت ہے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم (کے جسم) پر موٹی قمیص دیکھی۔
٢٦٥٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سعيد بن السائب الطائفي عن محمد بن السائب (بن) (١) أبي هندبة عن أبيه قال: رأيت على عمر (ثوبين قطريين) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سائب بن ابی ہندیہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (کے جسم) پر دو قطری (ریشم ملے ہوئے سفید) کپڑے دیکھے۔
٢٦٥٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (طير) (١) بن ثعلبة عن أبي النوار قال: رأيت عليا اشترى قميصين غليظين ((خير) (٢) قنبر أحدهما) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو النوار سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دو موٹی قمیصیں خریدتے دیکھا۔ ان میں سے ایک کو قنبر نے پسند کیا تھا۔
٢٦٥٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سعيد بن عبيد عن عَليّ بن رَبيعةَ قال: رأيت على علي ثوبين (قطريين) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ربیعہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ (کے جسم) پر دو قطری (ریشم ملے ہوئے سفید) کپڑے دیکھے۔
٢٦٥٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم ⦗٥٤٥⦘ قال: (كان من) (١) قبلكم (أسفق) (٢) (ثيابًا) (٣) وأشفق قلوبًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگ کپڑوں کے اعتبار سے سخت تھے اور دلوں کے اعتبار سے نرم تھے۔
٢٦٥٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد عن الجريري عن أبي طلحة قال: خرج طلحة بن (عبيد اللَّه) (١) وعليه ثوبان ممصران (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ باہر تشریف لائے اور آپ (کے جسم) پر ہلکی زردی والے دو کپڑے تھے۔