٢٥٨٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "لا فرعة ولا (عتيرة) " (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” فرعہ اور عتیرہ (باقی) نہیں ہیں۔ “ (عتیرہ : رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کیا جانے والا ذبیحہ۔ ) (فرعہ : جانور کا پہلا بچہ جس کو لوگ اپنے معبودوں کے لئے ذبح کرتے تھے۔ )
٢٥٨٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة أن النبي ﷺ قال: "لا (فرعة) (١) ولا عتيرة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نہ فرعہ (باقی) ہے اور نہ عتیرہ (باقی) ہے۔ امام زہری کہتے ہیں : فَرَع : یہ وہ بچہ ہے جو لوگوں کے مواشی کے ہاں پہلا پیدا ہوتا تھا جس کو وہ اپنے معبودوں کے لئے ذبح کرتے تھے۔ اور عتیرہ، رجب کے مہینہ میں تھی۔
٢٥٨٨١ - قال: الزهري أما (الفرع) (١) فإنه أول نتاج ينتجونه من مواشيهم يذبحونه لآلهتهم (والعتيرة) (٢) في رجب.
٢٥٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن شعبة عن أبي إسحاق أن عليًا وابن مسعود كانا لا يريان العتيرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن مسعود عتیرہ کو ٹھیک نہیں سمجھتے تھے۔
٢٥٨٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن القاسم قال: سألته عن العتيرة قال: تلك الرجبية ذبائح أهل الجاهلية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید، حضرت قاسم کے بارے میں روایت کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے عتیرہ کے بارے میں سوال کیا ؟ انہوں نے فرمایا : یہ اہل جاہلیت کی قربانیوں میں سے رجب کے مہینہ میں کی جانے والی قربانی ہے۔
٢٥٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن ابن عون قال: سألت الشعبي عن العتيرة فقال: (جيرانك) (١) (افعل) (٢) الناس لها، قلت: ما هي؟ قال: في (عشر بقين) (٣) من رجب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے عتیرہ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ اس کو کرنے والے تمہارے پڑوسی تھے۔ میں نے پوچھا۔ یہ کیا چیز ہے ؟ انہوں نے فرمایا : رجب کے آخری دس دن میں ہوتی تھی۔
٢٥٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (مبارك) (١) عن الحسن قال: العتيرة ذبائح أهل الجاهلية.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ عتیرہ، اہل جاہلیت کے ذبیحوں میں سے ہے۔
٢٥٨٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ (قال حدثنا) (١) ابن عون قال: أنبأني أبو رملة عن مخنف بن سليم ذكر وقوفًا مع النبي ﷺ (٢) بعرفة فقال: "يا أيها الناس، إن على كل بيت في كل عام أضحى وعتيرة، (أتدرون) (٣) ما العتيرة (٤): ⦗٣٨١⦘ هي التي تسميها (الناس) (٥) الرجبية" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابو رملہ نے حضرت مخنف بن سلیم کے حوالہ سے بتایا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عرفہ کے مقام پر وقوف کیاْ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! ہر گھر (والوں) پر ہر سال ایک اضحیہ اور ایک عتیرہ ہے۔ “ جانتے ہو عتیرہ کیا ہے ؟ “ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہی قربانی ہے جس کو لوگ رجبی (قربانی) کہتے ہیں۔ “
٢٥٨٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ عن ابن عون عن محمد قال: كان يذبح في كل رجب.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ہر رجب میں ذبح کی جاتی تھی۔ حضرت معاذ کہتے ہیں ۔ اور میں نے حضرت ابن عون کی عتیرہ دیکھی ہے۔
٢٥٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير (١) قال: حدثنا داود بن قيس قال: حدثني عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: سئل رسول اللَّه ﷺ عن الفرع (فقال) (٢): "و (الفرع) (٣) حق؛ ولأن (تتركه) (٤) حتى يكون (شغزُبّا) (٥) ابن مخاض (أو ابن) (٦) لبون فتحمل عليه في سبيل اللَّه، (أو تعطيه) (٧) أرملة خير من أن تذبحه (يلصق) (٨) لحمه بوبره، ⦗٣٨٢⦘ (تكفا إناءك) (٩) وتوله ناقتك"، وسأله عن العتيرة؟ فسكت رسول اللَّه ﷺ فسأل بعض القوم عمر عن العتيرة فقال: كنا نسميها الرجبية، ويذبح أهل البيت الشاة في (الرجب) (١٠) فيأكلونها (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب، اپنے والد ، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فَرَع کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” فَرَع حق ہے۔ اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ بچہ دو سال کا یا تین سال کا بڑا ہوجائے پھر تو اس پر راہ خدا میں بوجھ برداری کرے یا تو اس کو کسی رنڈے کو دے دے یہ اس سے بہتر ہے کہ تو اس کو ذبح کرے اور اس کا گوشت اس کے بالوں سے ملا دے اور تو ہانڈی کو انڈیل دے اور اپنی اونٹنی کو پاگل بنا دے اور سائل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عتیرہ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکوت فرمایا، ایک آدمی نے حضرت عمر سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا۔ ہم نے اس کا نام رجبیہ رکھا ہو اتھا۔ کوئی بھی اہل خانہ ایک بکری ماہ رجب میں ذبح کرتے تھے اور اس کو کھالیتے تھے۔
٢٥٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عفان قال حدثنا حماد بن سلمة قال أخبرنا) (١) عبد اللَّه بن عثمان بن خثيم عن يوسف بن ماهك عن حفصة بنت عبد الرحمن عن عائشة أنها قالت: أمرنا رسول اللَّه ﷺ بالفرع في كل خمس (شياه) (٢) شاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفصہ بنت عبد الرحمان، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے فرمایا : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ہر پانچ بکریوں میں ایک بکری کے فرع کا حکم دیا۔
٢٥٨٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن إبراهيم بن ميسرة وبن طاوس عن أبيه قال: سئل النبي ﷺ عن الفرع فقال: "فرعوه إن شئتم، وإن تغذوه حتى يبلغ فتحملوا عليه في سبيل (اللَّه) (١) أو تصلوا به قرابة، خير من أن (تذبحوه) (٢) يختلط لحمه بشعره" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن میسرہ اور حضرت طاؤ س ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرع کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم چاہو تو پہلے بچہ کو ذبح کردو۔ اور اگر تم اس کو تب تک پالو جب تک کہ وہ بڑا ہوجائے پھر تم اس پر راہ خدا میں بوجھ برداری کرو یا اس کے ذریعے صلہ رحمی کرو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اس کو اس طرح سے ذبح کردو کہ اس کا گوشت اس کے بالوں سے مخلوط ہوجائے۔
٢٥٨٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) عفان قال: (حدثنا) (٢) (أبو عوانة) (٣) قال: حدثنا يعلى بن عطاء عن وكيع العقيلي عن عمه أبي رزين وهو لقيط بن عامر أنه قال: يا رسول اللَّه إنا كنا نذبح في رجب ذبائح، فنأكل منها ونطعم من جاءنا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا بأس بذلك" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وکیع عقیلی، اپنے چچا حضرت ا بو رزین سے… جس کا نام حضرت لقیط بن عامر ہے… روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم لوگ ماہ رجب میں کچھ جانور ذبح کرتے تھے جن کو ہم خود بھی کھاتے تھے اور جو لوگ ہمارے پاس آتے تھے ہم ان کو بھی کھلاتے تھے ؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ “ راوی کہتے ہیں ۔ اس پر حضرت وکیع نے کہا۔ میں تو اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔