٢٥٨٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر ووكيع عن هشام (بن) (١) عروة عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء بنت (أبي بكر) (٢) قالت: نحرنا فرسًا على عهد رسول اللَّه ﷺ فأكلنا من لحمه أو أصبنا من لحمه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت ابی بکر سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک گھوڑا نحر کیا۔ پھر ہم نے اس کا گوشت کھایا۔ یا کہا… ہمیں اس کا گوشت ملا۔
٢٥٨٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن جريج عن أبي الزبير عن جابر قال: أكلنا لحوم الخيل يوم خيبر ولحوم الحمر الوحشية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے دن گھوڑوں اور وحشی گدھوں کا گوشت کھایا تھا۔
٢٥٨٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن جابر بن عبد اللَّه قال: أطعمنا رسول اللَّه ﷺ لحوم الخيل، ونهانا عن لحوم الحمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن عبد اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔
٢٥٨٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: كان أصحاب رسول اللَّه ﷺ يأكلون لحوم الخيل في مغازيهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ، اپنے جہادی اسفار میں گھوڑوں کا گوشت کھایا کرتے تھے۔
٢٥٨٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: نحر أصحاب عبد اللَّه فرسًا فقسموه بينهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے ساتھیوں نے ایک گھوڑا ذبح کیا۔ پھر اس کو آپس میں تقسیم کرلیا۔
٢٥٨٩٩ - [حدثنا أبو بكر قال أخبرنا سلام عن مغيرة [عن إبراهيم قال: كان أصحابنا يأكلون لحوم الخيل] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھی، گھوڑوں کا گوشت کھایا کرتے تھے۔
٢٥٩٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا [وكيع عن شعبة عن مغيرة] (١) عن إبراهيم أن الأسود أكل لحم فرس.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے۔ کہ حضرت اسود نے گھوڑے کا گوشت کھایا۔
٢٥٩٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم أن شريحا أكل لحم فرس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے روایت ہے کہ حضرت شریح نے گھوڑے کا گوشت کھایا۔
٢٥٩٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن ابن عون قال: سألت محمدًا عن لحوم الخيل فلم ير بها بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد سے گھوڑوں کے گوشت کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔
٢٥٩٠٣ - [حدثنا أبو بكر قال حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء قال: لا بأس بها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٢٥٩٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن أبي إسحاق قال: أدركتهم يقتسمون (لحوم) (١) الخيل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسلاف کو گھوڑوں کے گوشت کو تقسیم کرتے پایا ہے۔
٢٥٩٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع وعلي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: سأله رجل عن أكل الفرس -وقال: وكيع عن أكل الخيل- فقرأ هذه الآية: ﴿وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ﴾ [النحل: ٥] الآية قال: فكرهها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ سے گھوڑا کھانے کے بارے میں سوال کیا ؟ حضرت وکیع کہتے ہیں۔ خچر کھانے کے بارے میں سوال کیا تھا۔ تو آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ { وَالأَنْعَامَ خَلَقَہَا لَکُمْ فِیہَا دِفْئٌ} الایۃ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ نے اس کو ناپسند سمجھا۔
٢٥٩٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن يونس عن الحسن قال: لا بأس بلحم الفرس.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گھوڑے کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔