٢٥٧٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك قال: كنت في مجلس (من مجالس) (١) الأنصار فأتى بعضهم بشراب فلما أراد أن يشرب نفخ فيه فقال: بعض القوم مهلا فإن رسول اللَّه ﷺ كان ينهى عنه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں ہم انصار کی ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان میں سے کسی کے پاس کوئی مشروب لایا گیا۔ جب اس نے اس مشروب کو پینا چاہا تو اس میں پھونک ماری۔ اس پر کچھ دیگر حضرات نے کہا۔ چھوڑ دو کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع کیا کرتے تھے۔
٢٥٧٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مالك بن أنس عن أيوب بن حبيب مولى بني زهرة عن أبي المثنى الجهني قال: كنت عند مروان بن الحكم فدخل أبو (سعيد) (١) فقال له: سمعتَ رسولَ اللَّه ﷺ ينهى عن النفخ في الشراب (٢) [(قال) (٣) (٤): نعم فقال (له) (٥): سمعتَ رسولَ اللَّه ﷺ ينهى عن النفخ في ⦗٣٤٤⦘ الشراب] (٦)، قال: فقال له رجل: إني لا أروى بنفس واحد، قال: "أبن الإناء عن فيك، ثم تنفس" قال: فإن رأيت قذرا؟ (قال) (٧): "فأهرقه" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو المثنی جہنی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت مروان بن الحکم کے ہاں موجود تھا کہ حضرت ابوسعید تشریف لائے ۔ مروان نے آپ سے پوچھا۔ آپ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع کرتے سُنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں۔ راوی کہتے ہیں : اس پر ایک آدمی بولا۔ میں تو ایک سانس میں بالکل سیراب نہیں ہوتا۔ حضرت ابو سعید نے فرمایا : تم برتن کو اپنے منہ سے جُدا کرلو پھر سانس لے لو۔ اس آدمی نے کہا۔ پس اگر میں (پانی میں) گندگی دیکھوں ؟ آپ نے فرمایا : تو تم اس پانی کو بہا دو ۔
٢٥٧٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن يونس عن الزهري قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن النفخ في الطعام والشراب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے ، پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ۔ راوی کہتے ہیں میں نے اس معاملہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز سے زیادہ کسی کو شدید نہیں دیکھا۔
٢٥٧٥٤ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا) (١) ابن عيينة عن عبد الكريم عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي ﷺ نهى أن يتنفس في الإناء وأن ينفخ فيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے اور اس میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔
٢٥٧٥٥ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا) (١) وكيع عن ثور عن (يزيد) (٢) (عن ⦗٣٤٥⦘ مولاة) (٣) (لثوبان) (٤) (قالت) (٥): (أتيت) (٦) ثوبان بشراب فنفخت فيه، فأبى أن يشربه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثوبان کی مولاۃ سے روایت ہے ۔ وہ کہتی ہیں ۔ میں حضرت ثوبان کے پاس ایک مشروب لے کر آئی تو میں نے اس میں پھونک مار دی۔ اس پر حضرت ثوبان نے (وہ) مشروب پینے سے انکار فرما دیا۔
٢٥٧٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (هاشم) (١) بن (بريد) (٢) عن القاسم بن مسلم مولى الحسن بن (علي) (٣) قال: استسقى علي، فأتيته بشراب فنفخت فيه، فأبى أن يشربه وقال: اشربه أنت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے مولی حضرت قاسم بن مسلم سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پانی طلب کیا۔ پس میں ان کے پاس پانی لے کر آیا اور میں نے اس پانی میں پھونک مار دی اس پر انہوں نے وہ پینے سے انکار کردیا۔ اور فرمایا : اس کو تم پی لو۔
٢٥٧٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول أنه كان يكره النفخ في الطعام والشراب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت برد، حضرت مکحول کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ کھانے اور پینے کی چیز میں پھونک مارنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
٢٥٧٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) حفص عن ليث عن مجاهد قال: كان يكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث، حضرت مجاہد کے بارے میں روایت کرتے ہیں وہ بھی اس عمل کو ناپسند سمجھتے تھے۔
٢٥٧٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) يزيد بن هارون عن حجاج عن عبد الملك بن إياس عن إبراهيم أنه كره النفخ في (الطعام) (٢) والشراب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن ایاس، ابراہیم کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ کھانے اور پینے کی چیز میں پھونکنے کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٥٧٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن يحيى (عن) (١) عبد اللَّه ابن أبي قتادة عن (أبيه) (٢) أن النبي ﷺ نهى عن النفخ في الإناء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن قتادہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برتن میں پھونکنے سے منع فرمایا ہے۔