٢٤٦٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن إدريس عن مطرف عن الشعبي قال: ليس (لميت) (٢) شرط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میت کے لئے کوئی شرط نہیں ہے۔
٢٤٦٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الصمد عن حماد بن سلمة عن حميد عن الحكم (في الرجل) (١) (يؤجر) (٢) داره عشر سنين فيموت قبل ذلك، قال: تنتقض الإجارة: و (تبطل) (٣) العارية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے اپنا گھر دس سالوں کے لئے اجرت پر دیا پھر اس سے قبل ہی وہ فوت ہوگیا تو اجارہ ختم ہوجائے گا اور عاریت باطل ہوجائے گی۔ حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ عاریت کو پورا کیا جائے گا اور اجارہ باطل ہوجائے گا ۔ حضرت ایاس بن معاویہ فرماتے ہیں کہ دونوں کو انتہاء تک پورا کیا جائے گا۔ حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں اس کے ورثاء اس کے وارث ہوں گے جس کا وہ اپنی زندگی میں مالک تھا۔
٢٤٦٢٦ - قال: أيوب: عن محمد بن سيرين: إنما (يرثون) (١) من ذلك ما (كان) (٢) يملك في حياته.
٢٤٦٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي خالد عن عامر أنه سئل عن امراة أسلمت غلامًا لها أشهرًا، فماتت المرأة قبل ذلك، فقال عامر: ⦗٥٥٩⦘ [لأختها: هو (غلامك) (١) إن شئت قبضتيه، وإن شئت تركتيه] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے دریافت کیا گیا کہ ایک خاتون نے اپنے غلام میں کچھ مہینوں کے لئے سلم کیا ہے پھر خاتون مقررہ مدت سے قبل ہی فوت ہوگئی ؟ حضرت عامر نے اس کے بھائی سے فرمایا ، وہ آپ کا غلام ہے اگر چاہو تو لے لو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو ۔