کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کچھ دے کر اُس سے زیادہ وصول کیا جائے
٢٤١٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم: ﴿وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ﴾ [المدثر: ٦]، قال: لا تعط لتزداد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم قرآن پاک کی آیت { وَلاَ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ زیادہ وصول کرنے کے لئے مت دے۔
٢٤١٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة قال: حدثني من سمع عكرمة يقول: لا تعط العطية فتريد أن تأخذ أكثر منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایسا عطیہ مت دے کہ اس سے زیادہ وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔
٢٤١٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سلمة بن نبيط عن الضحاك: ﴿وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ﴾ (قال) (١): لا تعط لتعطى أكثر منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک قرآن پاک کی آیت { وَلاَ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ مت دے کہ اس سے زیادہ عطاء کیا جائے۔
٢٤١٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن [بن] (١) أبي رواد قال: سمعت الضحاك (يقول) (٢): ﴿وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ﴾ [الروم: ٣٩]، قال: (هذا كان) (٣) (للنبي) (٤) ﷺ خاصة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت { وَمَا آتَیْتُمْ مِنْ رِبًا لِیَرْبُوَا فِی أَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ یَرْبُوا عِنْدَ اللہِ } فرمایا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھا۔
٢٤١٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد (بن هارون عن سفيان) (١) (بن حسين) (٢) عن الحسن في قوله: ﴿وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ﴾ [المدثر: ٦]، قال: لا (تمنن) (٣) (عملك) (٤) على (ربا) (٥) (لتستكثر) (٦) على ربك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اللہ کے ارشاد { وَلاَ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اپنے عمل پر زیادتی کی تمنا نہ کر کہ تیرے عمل میں زیادتی ہو۔
٢٤١٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن نافع (١) بن عمر عن القاسم (ابن) (٢) أبي بزة في قوله: ﴿(وَ) (٣) لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ﴾، قال: لا تعطى شيئًا تطلب أكثر منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما قرآن کریم کی آیت { وَلاَ تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ کوئی چیز دے کر اس سے زیادہ طلب مت کر۔
٢٤١٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن منصور (ابن) (٢) صفية عن سعيد بن جبير قال: الرجل يعطي ليثاب عليه ﴿وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ (فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ) (٣)﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اس لئے دے کہ اس پر اس کو زیادہ ملے وہ اس حکم میں ہے { وَمَا آتَیْتُمْ مِنْ رِبًا لِیَرْبُوا فِی أَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ یَرْبُوَا عِنْدَ اللہِ }
٢٤١٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (ابن) (١) أبي نجيح عن مجاهد قال: الهدايا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہدایا مراد ہیں۔
٢٤١٤٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن إبراهيم قال: كان الرجل يعطي قرابته ليكثر بذلك ماله] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنے رشتہ دار کو دیتا تھا تاکہ اس سے زیادہ مال وصول کرے۔
٢٤١٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن خالد عن عكرمة ﴿وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ﴾، هو الذي يتعاطى الناس بينهم من معروف التماس الثواب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ { وَمَا آتَیْتُمْ مِنْ رِبًا لِیَرْبُوَا فِی أَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ یَرْبُوا عِنْدَ اللہِ } جو سے مراد وہ عطایا ہیں جو لوگ آپس میں ثواب کی نیت سے لیتے دیتے ہیں۔