٢٣٨٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حسن بن صالح عن أبيه قال: كتب عمر بن عبد العزيز ألا يؤخذ من أهل السوق (أجر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے تحریر فرمایا : بازار والوں سے کرایہ وصول نہ کیا جائے۔
٢٣٨٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا يحيى بن (أبي) (١) (الهيثم) (٢) العطار عن الأصبغ بن نباتة قال: كنا في زمان علي: من سبق إلى مكان في السوق كان أحق به إلى الليل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الاصبغ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہمارا یہ دستور تھا کہ جو شخص بازار میں کسی جگہ کو پہلے حاصل کرلیتا وہی شام تک اس جگہ کا مالک ہوتا۔
٢٣٨٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) محمد بن (تميم) (٢) ⦗٣٥٣⦘ (الراسبي) (٣) قال: سألت الحسن عن دكاكين السوق فكره بيعها وشراءها وإجارتها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے بازار کی دکانوں اور چبوتروں کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ انہوں نے اس کی بیع و شراء اور کرایہ پر دینے کو ناپسند فرمایا۔
٢٣٨٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن زياد بن فياض عن رجل من أهل المدينة، قال: دخل عمر بن الخطاب السوق وهو راكب، فرأى دكانا قد أحدث في السوق، فكسره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سوار ہو کر بازار میں تشریف لائے، آپ رضی اللہ عنہ نے بازار میں کچھ نئی دکانیں تو ان کو گرا دیا۔
٢٣٨٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم عن الحسن عن مجالد بن سعيد قال: أول من أخذ من السوق أجرا زياد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے زیاد نے بازار والوں سے کرایہ وصول کیا۔