کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: مکاتب اپنے آقا کو یوں کہے : تو بدل کتابت کم کر دے میں جلدی ادا کردو ں گا
٢٣٦٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد السلام) (١) بن حرب عن عطاء ابن السائب عن طاوس أنه كان لا يرى بأسًا أن يقول الكاتب لولاه: حط عني وأعجل لك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مکاتب اپنے آقا کو یوں کہے کہ کچھ بدل کتابت کم کر میں جلدی ادا کروں گا تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔
٢٣٦٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن (٢) عطاء ابن السائب عن طاوس قال: لا بأس أن يقول لمكاتبه: عجل لي وأضع عنك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آقا اپنے مکاتب سے یوں کہے کہ : جلدی ادا کر میں بدل کتابت کم کر دوں گا۔
٢٣٦٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن زكريا عن الشعبي في رجل يقول لكاتبه: أضع عنك وعجل لي، فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آدمی کا اپنے مکاتب کو یوں کہنا : میں کچھ کمی کر دوں گا تو جلدی ادا کر، آپ نے اس کو ناپسند فرمایا۔
٢٣٦٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه قال في الرجل (١) يكاتب غلامه على (دراهم) (٢) إلى أجل مسمى، فيقول له (قبل) (٣) محل الأجل: عجل (لي) (٤) وأضع عنك، لم ير (به) (٥) بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی اپنے غلام کو مقررہ مدت کے لئے کچھ دراہم پر مکاتب بنائے، پھر وقت مقررہ سے پہلے اس کو کہے کہ جلدی ادا کر میں بدل کتابت میں کمی کر دوں گا، تو اس میں کوئی حرج نہیں، فرماتے ہیں کہ میں نے سوائے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اور کسی کو نہیں دیکھا جو اس کو ناپسند کرتا ہو، بیشک اس کو ناپسند کرتے تھے البتہ سامان کے بدلہ میں جائز سمجھتے تھے۔
٢٣٦٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الربيع عن الحسن وابن سيرين أنهما كرها في المكاتب أن يقول: عجل لي وأضع عنك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور ابن سیرین رحمہ اللہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ مکاتب سے یہ کہا جائے کہ وقت مقررہ سے جلدی ادا کر میں کچھ کمی کر دوں گا۔
٢٣٦٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عطاء عن ابن عباس في الرجل يقول لمكاتبه: عجل لي وأضع عنك، (قال) (١): لا بأس به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنے مکاتب سے یوں کہتا ہے کہ جلدی ادا کر میں کچھ کم کر دوں گا، آپ نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ حضرت سفیان دین اور مکاتب میں اس کو ناپسند کرتے تھے۔