کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: مکاتب کچھ بدل کتابت ادا کرنے کے بعد باقی سے عاجز آجائے تو کیا حکم ہے؟
٢٢٨٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن محمد بن إسحاق ⦗١٠٠⦘ عن نافع عن ابن عمر أن مكاتبًا له عجز فرده (١) مملوكًا وأمسك ما أخذ منه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا غلام بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز آگیا ، تو آپ نے اس کو دوبارہ غلام بنا لیا اور جو اس سے وصول کیا تھا اس کو اپنے پاس روک لیا۔
٢٢٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن (أبي) (١) الزبير عن جابر قال: لهم ما أخذوا منه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو اس سے وصول کیا ہے وہ آقا کے لئے ہوگا۔
٢٢٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة ووكيع عن إسماعيل عن الشعبي عن مسروق قال: (يجعله) (١) في مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے مثل میں رکھیں گے۔
٢٢٨٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: ينظر ما كان أعانه الناس في مكاتبته فيجعله في الرقاب، وما كان من كسبه وماله (فهو) (١) لمولاه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھیں گے کہ جو مال لوگوں نے بدل کتابت کی ادائیگی میں مدد کے لئے عطا کیا تھا وہ غلاموں کے لئے ہوگا اور جو مال اس نے خود کمایا تھا وہ آقا کے لئے ہوگا۔
٢٢٨٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن الحكم عن إبراهيم عن شريح قال: يجعله في مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے مثل میں رکھیں گے۔
٢٢٨٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن مجالد عن الشعبي عن شريح قال: هو لمولاه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اس کے آقا کے لئے ہوگا۔ ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس کے مثل (یعنی مکاتب) کو دیں گے۔