٢٢٣٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك (١) عن سماك عن (ابن) (٢) عبيد بن الأبرص أن عليًا ضمن نجارًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بڑھئی کو ضامن بنایا۔
٢٢٣٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن طلحة بن أبي سعيد قال: ⦗٥١٤⦘ سمعت بكير بن عبد اللَّه بن الأشج يحدث (أن) (١) عمر بن الخطاب ضمن (الصناع) (٢) الذين انتصبوا للناس في أعمالهم: ما أهلكوا في أيديهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کاریگروں کو ان کے ہاتھوں ضائع ہونے والی چیزوں کا ضامن قرار دیا ہے۔
٢٢٣٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن علي أنه كان يضمن القصار و (الصواغ) (١) وقال: لا يصلح (الناس) (٢) إلا ذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رنگ ساز اور رنگ ریز کو ضامن بنایا اور فرمایا : لوگوں کے لیے اسی میں بہتری ہے۔
٢٢٣٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن علي بن الأقمر عن شريح أنه كان يضمن القصار وقال: أعطه ثوبه أو (شرواه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاضی شریح رحمہ اللہ نے رنگ ساز کو ضامن بنایا اور فرمایا : نقصان کی صورت میں وہی کپڑا دے یا اس جیسا کپڑا دے۔
٢٢٣٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن جابر عن الشعبي عن مسروق وشريح، قال: [كانا يضمنان القصار (شرواه) (١) يوم أخذه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ اور حضرت شریح رحمہ اللہ رنگ ساز کو ضامن قرار دیتی تھے۔
٢٢٣٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن مسروق وشريح أنهما قالا] (١) في قصار خرق ثوبًا: يضمن قيمته، ويأخذ ثوبه إليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ اور حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رنگ ساز اگر کپڑا پھاڑ دے تو وہ اس کی قیمت کا ضامن ہوگا۔ اور اس سے کپڑا وصول کیا جائے گا۔
٢٢٣٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أنه قال في القصار إذا أفسد، قال: هو ضامن، قال: وكان لا يضمنه غرقا (ولا حرقًا) (١) ولا عدوًا مكابرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رنگ ساز اگر خراب کر دے تو وہ ضامن ہے، اور اگر وہ چیز ڈوب جائے یا جل جائے یا دشمن برباد کر دے تو ضامن نہ ہوگا۔
٢٢٣٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش قال: أمرني جار لي قصار، يقال له ثابت: (أسأل له) (١) إبراهيم عن رجل أعطى غلامًا له ثوبًا فضاع فسألته فقال: أليس يعلم أنه (غلامه) (٢) قلت: نعم، قال: هو ضامن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے پڑوسی ثابت نے جو رنگ ساز تھا مجھے کہا کہ میں ابراہیم رحمہ اللہ سے دریافت کروں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو کپڑے دئیے، اس نے وہ ضائع کر دئیے، تو اس کا کیا حکم ہے ؟ میں نے ابراہیم سے سوال کیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اس کا غلام ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا وہ ضامن ہوگا۔
٢٢٣٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة قال: سألت إبراهيم عن حائك مشى في غزل (بشعلة) (١) من نار، فوقعت شرارة (فأحرقت) (٢) الغزل قال: يضمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ کپڑا بننے والا اونی کپڑوں میں (اون) آگ کے انگاروں کے پاس سے گزرا تو آگ کے انگارے نے اس اون کو جلا ڈالا، اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ ضامن ہوگا۔
٢٢٣٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن عبد الملك بن أبي (غنية) (١) عن الحكم قال: يضمن الصباغ والقصار وكل أجير مشترك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رنگ ساز اور ہر مشترک اجیرضامن ہوگا۔
٢٢٣٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان، عن جابر ومطرف، عن عامر قال: لا يضمن القصار إلا ما جنت يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رنگ ساز اسی کا ضامن ہوگا جو اس کے ہاتھوں نے کیا ہو۔ ( جو خرابی اس کی وجہ سے آئی ہو ) ۔