٢٢٢٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن داود عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معشر اور ابراہیم رحمہ اللہ اس مضارب کے متعلق فرماتے ہیں جو مخالفت کرے کہ وہ دونوں نفع سے دور رہیں گے اور اس کو صدقہ کریں گے۔
٢٢٢٥١ - وعن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم قالا: في المضارب يخالف، قالا: (يتنزهان) (١) عن الربح (و) (٢) يتصدقان به.
٢٢٢٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: يتصدقان بالربح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفع کو صدقہ کردیں گے۔
٢٢٢٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: إذا خالف فهو ضامن، والربح لصاحب المال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ اگر مضارب مخالفت کرے تو وہ ضامن ہوگا اور نفع رب المال کو ملے گا۔
٢٢٢٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن خالد عن أبي قلابة قال: الربح على ما اشترطا عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ نفع اس پر ہوگا جو انہوں نے اس پر شرط لگائی تھی۔
٢٢٢٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن (إياس ابن معاوية) (١) قال: هو ضامن، والربح بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مضارب ضامن ہوگا، اور نفع ان کے درمیان تقسیم ہوگا۔
٢٢٢٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن فضيل بن (عمرو) (١) عن شريح (قال) (٢): من ضمن مالًا (فله ربحه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو پیسوں کا ضامن ہے نفع اس کو ملے گا۔
٢٢٢٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن داود عن الشعبي عن شريح مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ سے اسی طرح مروی ہے اور حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ صدقہ کریں گے۔
٢٢٢٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن داود بن أبي هند عن (رياح) (١) (ابن) (٢) عبيدة أن رجلًا بعث معه ببضاعة، فلما كان ببعض (الطريق) (٣) رأى شيئًا يباع، فأشهد أنه ضامن للبضاعة ثم اشترى بها ذلك ⦗٤٩٦⦘ الشيء، فلما قدم المدينة باع الذي اشترى فربح، فسأل ابن عمر عن ذلك فقال: الربح لصاحب المال (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ریاح بن عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کے ساتھ سامان تجارت بھیجا جب وہ راستہ میں تھا تو اس نے دیکھا کہ کچھ فروخت ہو رہا ہے پھر اس کو یاد آیا کہ وہ سامان کا ضامن ہے، اس نے اس سامان سے وہ چیز خرید لی ، جب مدینہ آیا تو اس خریدی ہوئی چیز کو فروخت کر کے نفع کھایا، پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نفع رب المال کا ہے۔