٢٢٠٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم بن بشير عن (ابن) (١) (شبرمة) (٢) عن الحارث العكلي في رجل تزوج امرأة على دار، فطلب شفيع الدار (الدار) (٣)، قال: يأخذها بصداق مثل المرأة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث عکلی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے ایک مکان کے عوض شادی کرے پھر مکان کا شفیع مکان کو طلب کرے تو عورت کو اس کا مہر مثلی ملے گا، ابن شبرمہ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ نہیں البتہ شفیع اس کی قیمت لے سکتا ہے۔
٢٢٠٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن يعقوب بن عبد اللَّه عن الحسن قال: ليس في صداق شفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ مہر میں شفعہ نہیں ہوسکتا۔
٢٢٠٣٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور قال: حدثت عن الشعبي قال: ليس في صداق شفعة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مہر میں شفعہ نہیں ہوسکتا۔
٢٢٠٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حسن بن صالح عن ابن أبي ليلى في الرجل يتزوج (المرأة) (١) على الدار، قال: يأخذها الشفيع بقيمة الدار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے کسی مکان کے عوض عورت سے نکاح کیا تو شفیع مکان کی قیمت لے سکتا ہے۔