٢١٩٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء قال: كانوا يكرهون كل قرض جر منفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اسلاف فرماتے ہیں کہ ہر وہ قرضہ جو کسی نفع کا سبب بنے، جائز نہیں۔
٢١٩٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم عن إبراهيم قال: كل قرض جر منفعة فهو ربا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہر وہ قرضہ جو کسی نفع کا سبب بنے، سود ہے۔
٢١٩٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن ومحمد أنهما كانا يكرهان كل قرض جر منفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد فرماتے ہیں کہ ہر وہ قرضہ جو کسی نفع کا سبب بنے، جائز نہیں۔
٢١٩٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن عون عن ابن سيرين قال: أقرض رجل رجلًا خمسمائة درهم، واشترط (عليه) (١) ظهر فرسه فقال ابن مسعود: ما أصاب من ظهر فرسه فهو ربا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں ایک آدمی نے دوسرے کو پانچ سو درہم قرض دیا اور اس کے گھوڑے پر سواری کرنے کی شرط لگائی، جب حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جتنی سواری کی وہ سب سود ہے۔
٢١٩٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره كل قرض جر منفعة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہر وہ قرضہ جو کسی نفع کا سبب بنے، جائز نہیں۔