کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک تہمت لگانے والے کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی
٢١٨٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي عن شريح قال: إذا أقيم على الرجل (الحد) (١) في القذف لم تقبل (شهادته) (٢) أبدا، وتوبته فيما بينه وبين اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص پر حدِ قذف جاری ہو تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور اس کی توبہ اللہ کا اور اس کا معاملہ ہے۔
٢١٨٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبي الضحى عن شريح قال: لا تجوز شهادة القاذف، وتوبته فيما بينه وبين اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص پر حدِ قذف جاری ہو تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور اس کی توبہ اللہ کا اور اس کا معاملہ ہے۔
٢١٨٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الهيثم قال: سمعت إبراهيم والشعبي يتذاكران ذلك فقال إبراهيم: لا تجوز، فقال الشعبي: لم؟ فقال إبراهيم: (لأنك) (١) لا تدري تاب أو لم يتب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہیثم فرماتے ہیں کہ ابراہیم اور حضرت شعبی تہمت لگانے والے کی گواہی کے بارے میں بات کررہے تھے، ابراہیم نے فرمایا کہ اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، حضرت شعبی نے اس کی وجہ پوچھی تو ابراہیم نے فرمایا کہ آپ نہیں جانتے کہ اس نے توبہ کی ہے یا نہیں کی۔
٢١٨٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أنه كان يقول في القاذف: توبته فيما بينه وبين اللَّه، ولا (تجوز) (١) شهادته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص پر حدِ قذف جاری ہو تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور اس کی توبہ اللہ کا اور اس کا معاملہ ہے۔
٢١٨٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن حماد بن سلمة عن قتادة عن الحسن وسعيد بن المسيب قالا: لا شهادة له، وتوبته فيما بينه وبين اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص پر حدِ قذف جاری ہو تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور اس کی توبہ اللہ کا اور اس کا معاملہ ہے۔
٢١٩٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "المسلمون عدول بعضهم على بعض إلا محدودا في فرية" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمام مسلمان عدول ہیں (یعنی ان کی گواہی ایک دوسرے کے حق میں قبول کی جائے گی ) سوائے ان کے جن پر کسی جرم میں حد جاری ہوئی ہو۔
٢١٩٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن واصل عن إبراهيم قال: لا تجوز شهادة القاذف، وتوبته فيما بينه وبين اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص پر حدِ قذف جاری ہو تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور اس کی توبہ اللہ کا اور اس کا معاملہ ہے۔