٢١٨٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن حرب عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يزوج أم ولده عبده فتلد له أولادا، قال: هم بمنزلة أمهم، يعتقون بعتقها ويرقون برقها، فإذا مات سيدهم عتقوا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی ام ولد کی شادی اپنے غلام سے کرادے، پھر اس سے اس کی اولاد پیدا ہو تو وہ بچے اپنی ماں کے حکم میں ہوں گے، اس کے آزادہونے سے وہ آزاد ہوجائیں گے اور اس کی غلامی تک وہ غلام رہیں گے، جب ان کا آقا مرجائے تو وہ آزاد ہوجائیں گے۔
٢١٨٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (علي) (١) بن مسهر وابن أبي زائدة عن داود عن الشعبي في ولد أم الولد: يعتقون بعتقها ويرقون برقها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی ام ولد کی اولاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کے آزادہونے سے وہ آزاد ہوجائیں گے اور اس کی غلامی تک وہ غلام رہیں گے۔
٢١٨٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: إذا تزوجت أم الولد فولدت فولدها بمنزلتها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب ام ولد کی شادی کرائی گئی اور اس نے بچوں کو جنم دیا تو اس کے بچوں کا حکم ان کی ماں والا ہوگا۔
٢١٨٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: ولدها بمنزلتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ام ولد کے بچوں کو حکم ان کی ماں والا ہوگا۔
٢١٨٥٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن العمري عن نافع عن ابن عمر قال: ولد أم الولد بمنزلتها] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ام ولد کے بچوں کا حکم ان کی ماں والا ہوگا۔
٢١٨٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الزبير بن عدي عن حوط (أن) (١) رجلًا (غصب) (٢) رجلا أم ولد له فولدت له أولادًا فقال شريح: أولادها بمنزلتها، يستخدمهم ولا يبيعهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حوط فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے کی ام ولد کو غصب کیا اور اس سے اس کی اولاد ہوئی، حضرت شریح نے اس مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے سنایا کہ اولاد اپنی ماں کے حکم میں ہے، اصل مالک ان سے خدمت لے سکتا ہے لیکن انہیں بیچ نہیں سکتا۔
٢١٨٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: ولد أم الولد بمنزلتها، يعتقون بعتقها ويرقون برقها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ ام ولد کے بچے ان کی ماں کے حکم میں ہیں، اس کے آزادہونے سے وہ آزاد ہوجائیں گے اور اس کی غلامی تک وہ غلام رہیں گے۔
٢١٨٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن برد عن مكحول قال: ولد أم الولد بمنزلتها (يعتقون بعتقها) (١)، يبيعهم صاحبهم إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ ام ولد کے بچے ان کی ماں کے حکم میں ہیں، اس کے آزادہونے سے وہ آزاد ہوجائیں گے اور ان کا مالک اگر چاہے تو انہیں بیچ سکتا ہے۔
٢١٨٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن داود عن (رياح) (١) بن عُبَيْدة عن عمر بن عبد العزيز أنه أرق ولد أم الولد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے ام ولد کی اولاد کو غلام بنایا۔