٢١٨٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن برد عن سليمان بن موسى قال: مر رسول اللَّه ﷺ على رجل يبيع طعاما (ملغوثا) (١) فيه شعير، فقال: "اعزل هذا من هذا، وهذا من هذا، ثم بع كيف شئت، (و) (٢) بع ذا كيف شئت، فإنه ليس في ديننا غش" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو ، جو ملی ہوئی گندم بیچ رہا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ اس کو اس سے الگ کردو اور اس کو اس سے الگ کردو، پھر اسے جس طرح چاہوبیچو اور اسے جس طرح چاہو بیچو، بیشک ہمارے دین میں ملاوٹ نہیں ہے۔
٢١٨٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن يمان أبي حذيفة ((عن) (١) زياد مولى بن عباس عن ابن عباس) (٢) أنه سئل عن الرجل يخلط الشعير بالحنطة ثم يبيعه، قال: لا بأس به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی گندم میں جو کو ملا کر بیچتا ہے یہ کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٢١٨٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (عن شعبة) (١) عن يمان أبي حذيفة أنه سأل الشعبي عنه فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کو مکروہ قرار دیا۔
٢١٨٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن محمد أنه كان يكره أن يشتري الرجل الطعام الجيد والرديء، فيخلطهما جميعا ثم (يبيعهما) (١) فإن ⦗٤١٠⦘ كان الذي بينهما (قريبا) (٢) فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ آدمی اعلیٰ اور گھٹیا غلے کو ایک دوسرے میں ملا کر فروخت کرے، البتہ ان دونوں کا معیار ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہو تو اس میں کچھ حرج نہیں۔
٢١٨٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن جرير بن حازم عن حماد سئل عن البر يخلط بالشعير والبر يخلط بأردأ منه فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص گندم کو جو کے ساتھ یا گندم کو اس سے گھٹیا درجے کی گندم کے ساتھ ملا کر بیچے تو کیسا ہے ؟ انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔