کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی شخص کا انتقال اس حالت میں ہو کہ اس کے پاس امانت بھی ہو اور اس پر قرض بھی ہو تو کیا حکم ہے؟
٢١٢٩٢ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم (قال) (١): (يبدأ) (٢) (بالوديعة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ امانت کی ادائیگی سے ابتداء کی جائے گی۔
٢١٢٩٣ - حدثنا (هشيم) (١) عن يونس عن الحسن قال: (يبدأ) (٢) بالأمانة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ امانت کی ادائیگی سے ابتداء کی جائے گی۔
٢١٢٩٤ - حدثنا هشيم عن سيار عن الشعبي قال: (الوديعة و) (١) المضاربة ⦗٢٧٤⦘ و (الدين) (٢) كل ذلك بالحصص.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ امانت، مضاربت اور قرض کی ادائیگی حصوں کے اعتبار سے ہوگی۔
٢١٢٩٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن حجاج عن الحكم عن إبراهيم وطاوس والزهري قالوا: يأخذون بالحصص.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم، حضرت طاوس اور حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔
٢١٢٩٦ - حدثنا حفص عن الشيباني (عن الشعبي) (١) قال: المضاربة والدين سواء، إذا لم يعرف (شيئًا) (٢) بعينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کسی چیز کا بعینہ علم نہ ہو تو مضاربت اور قرض برابر ہیں۔
٢١٢٩٧ - حدثنا حفص عن حجاج عن الحكم عن الشعبي (وأبي) (١) جعفر وعطاء والزهري قالوا: إذا مات وعليه دين وعنده مضارية أو (وديعة) (٢) فهم فيه على الحصص.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی، حضرت ابو جعفر، حضرت عطاء اور حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جس آدمی کا انتقال ہوا اور اس پر قرض تھا اور اس کے پاس مضاربت یا امانت تھی تو حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔
٢١٢٩٨ - (حدثنا) (١) الفضل بن دكين عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن مسروق وشريح في الدين والوديعة بالحصص،
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق اور حضرت شریح قرض اور ودیعت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ حصوں کے اعتبار سے ہوں گے، اور حضرت عامر فرماتے ہیں کہ جب بعینہ علم نہ ہو۔
٢١٣٠٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن عن أشعث عن الحكم قال: (يحاص) (١) الغرماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ قرض خواہوں کو حصوں کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے گا۔
٢١٣٠١ - حدثنا وكيع قال: (نا) سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: الوديعة بمنزلة الدين.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ امانت قرض کی طرح ہے۔