١٩٨٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن مطر عن (رجاء) (١) ابن حيوة عن قبيصة عن عمرو بن العاص أنه قال: لا تلبسوا علينا سنة نبينا، عدتها ⦗٣٥٠⦘ عدة المتوفى عنها زوجها، (عدة الحرة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم پر ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو خلط نہ کرو، ام ولد کی عدت وہی ہے جو اس عورت کی ہوتی ہے جس کا خاوند فوت ہوجائے۔
١٩٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى (عن سعيد) (١) عن قتادة عن فضالة بن (عبيد) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عیاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام ولد باندی کی عدت وہی ہے جو اس آزادعورت کی ہوتی ہے جس کا خاوند فوت ہوجائے۔
١٩٨٢٢ - (و) (١) عن (عبد ربه) (٢) عن أبي عياض (أنهما قالا) (٣): عدتها إذا توفي عنها زوجها عدة (الحرة) (٤) (٥).
١٩٨٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن داود عن سعيد بن المسيب قال: عدة أم الولد إذا توفي عنها (سيدها) (١) أربعة أشهر وعشرًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ام ولد باندی کا آقا انتقال کرجائے تو اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔
١٩٨٢٤ - حدثنا أبو بكر قال (١): نا ابن علية عن حميد عن الحسن وسعيد بن جبير أنهما قالا (٢): أم الولد إذا توفي عنها (سيدها) (٣) أربعة أشهر وعشرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اور حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ام ولد باندی کا آقا انتقال کرجائے تو اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔
١٩٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا (ابن) (١) علية عن أيوب قال: [(سأل) (٢) الحكم ابن (عتيبة) (٣)] (٤) الزهري عن عدة أم الولد إذا توفي عنها سيدها، فقال: السنة، قال: (وما) (٥) السنة؟ (٦) قال (٧): (بريرة) (٨) أعتقت فاعتدت عدة (الحرة) (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ نے حضرت زہری رحمہ اللہ سے ام ولد باندی کے آقا کے انتقال کر جانے کے بعد اس کی عدت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں سنت ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا سنت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا گیا تو انہوں نے آزاد عورت والی عدت گزاری تھی۔
١٩٨٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن هشام عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: عدة أم الولد أربعة أشهر وعشرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ام ولد باندی کا آقا انتقال کرجائے تو اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔
١٩٨٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن ابن أبي ذئب عن الزهري عن عمر بن عبد العزيز وسعيد بن المسيب مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ اور حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ام ولد باندی کا آقا انتقال کرجائے تو اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔
١٩٨٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد عن سعيد عن قتادة عن خلاس عن علي مثل ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ام ولد باندی کا آقا انتقال کرجائے تو اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔