١٩٨٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث وابن علية عن داود عن الشعبي عن ابن عمر قال: عدتها حيضة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ام ولد باندی کی عدت ایک حیض ہے۔
١٩٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة قال: عدة أم الولد إذا توفي (عنها) (١) سيدها حيضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام ولد باندی کے آقا کے انتقال کرجانے کی صورت میں اس کی عدت ایک حیض ہے۔
١٩٨٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: عدتها حيضة إذا توفي عنها سيدها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام ولد باندی کے آقا کے انتقال کرجانے کی صورت میں باندی (ام ولد باندی) کی عدت ایک حیض ہے۔
١٩٨٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن (هارون) (١) عن ابن سالم عن الشعبي عن زيد قال: عدتها حيضة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام ولد باندی کے آقا کے انتقال کرجانے کی صورت میں باندی (ام ولد باندی) کی عدت ایک حیض ہے۔
١٩٨٣٣ - [حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب عن جويبر عن الضحاك قال: عدتها حيضة] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام ولد باندی کے آقا کے انتقال کرجانے کی صورت میں باندی کی عدت ایک حیض ہے۔
١٩٨٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن إسماعيل عن الشعبي قال: عدتها حيضة، فلم لا (تورثونها) (١) إذا جعلتموها ثلاث حيض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام ولد باندی کے آقا کے انتقال کرجانے کی صورت میں ام ولد باندی کی عدت ایک حیض ہے۔ اگر تم اس کی عدت تین حیض قرار دیتے ہو تو اس کو آقا کا وارث کیوں نہیں بناتے ؟ !۔
١٩٨٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن ليث عن عطاء وطاوس (قالا) (١): عدة أم الولد والسرية -إذا توفي عنها سيدها- شهران وخمس ليال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ اور حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام ولد باندی اور آقا سے ازدواجی تعلقات رکھنے والی باندی کا جب انتقال ہوجائے تو اس کی عدت دو مہینے پانچ راتیں ہے۔
١٩٨٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن يحيى بن سعيد قال: سمعت القاسم وذكر له أن عبد الملك بن مروان فرق بين (رجال) (١) ونسائهم كن أمهات أولاد نكحن بعد حيضة أو حيضتين حتى (يعتددن) (٢) أربعة أشهر وعشرًا فقال: سبحان اللَّه! يقول اللَّه في كتابه: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا﴾ [البقرة: ٢٣٤]، (أتراهن من الأزواج) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت قاسم رحمہ اللہ کے سامنے کسی نے تذکرہ کیا کہ عبد الملک بن مروان رحمہ اللہ نے مردوں اور ان کی ایسی بیویوں کے درمیان جدائی کرادی جو اپنے آقاؤں کی ام ولد تھیں۔ لیکن ایک یا دو حیضوں کے بعد ان کے نکاح کرادیئے گئے تھے۔ عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ کا حکم تھا کہ وہ چار مہینے دس دن کی عدت گزاریں۔ یہ سن کر حضرت قاسم رحمہ اللہ نے فرمایا سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ تو قرآن مجید میں فرماتے ہیں { وَالَّذِینَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجًا } تو کیا یہ آقا ان کے خاوند ہیں ؟