کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک طلاق کے لئے مجبور کئے گئے شخص کی طلاق نہیں ہوتی
١٩٠٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن (عبد اللَّه) (١) بن طلحة الخزاعي عن (٢) أبي زيد المديني عن ابن عباس قال: (ليس) (٣) لمكره ولا (لمضطهد) (٤) طلاق (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلاق کے لئے مجبور کئے گئے اور زبردستی کئے گئے شخص کی طلاق نہیں ہوتی۔
١٩٠٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون ووكيع عن حماد بن سلمة عن حميد عن الحسن عن علي أنه كان لا يرى طلاق المكره شيئًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق کے لئے مجبور کئے گئے شخص کی طلاق نہیں ہوتی۔
١٩٠٠٨ - [حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن ابن عباس أنه ألغاه] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسی طلاق کو لغو قرار دیا۔
١٩٠٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر (عن ثابت مولى أهل المدينة عن ابن عمرو وابن) (٢) الزبير، قال: كانا لا (يريان) (٣) ⦗١٦٧⦘ طلاق المكره شيئًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ طلاق کے لئے مجبور کئے گئے شخص کی طلاق نہیں ہوتی۔
١٩٠١٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن الأوزاعي عن رجل عن عمر بن الخطاب أنه لم (يره) (١) شيئًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق کے لئے مجبور کئے گئے شخص کی طلاق نہیں ہوتی۔
١٩٠١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن (بشير) (١) عن زيد بن رفيع عن عمر بن عبد العزيز قال: لا طلاق، ولا عتاق على مكره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کے لئے مجبور کئے گئے شخص کی طلاق اور عتاق کا اعتبار نہیں۔
١٩٠١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن منصور ويونس عن الحسن أنه كان لا يرى طلاق المكره شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کے لئے مجبور کئے گئے شخص کی طلاق نہیں ہوتی۔
١٩٠١٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن عبد الملك عن عطاء أنه كان لا يراه شيئًا، قال عبد الملك في حديثه: قال عطاء: الشرك أعظم من الطلاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شرک طلاق سے بڑھ کر ہے۔
١٩٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن الأوزاعي قال: سألت عطاء عن طلاق المكره فقال: ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کے لئے مجبور کئے گئے شخص کی طلاق نہیں ہوتی۔
١٩٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو معاوية عن جويبر عن الضحاك قال: كان لا يرى طلاق المكره (١) وعتاقه جائزًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق کے لئے مجبور کئے گئے شخص کی طلاق اور عتاق کا کوئی اعتبار نہیں۔
١٩٠١٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه تجاوز لكم عن ثلاث: الخطأ، والنسيان، ⦗١٦٨⦘ وما أكرهتم عليه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے تین چیزوں کو معاف کردیا : غلطی، بھول اور وہ کام جس پر تم مجبور کئے گئے۔
١٩٠١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو أسامة قال: أخبرنا شعبة عن محمد بن عبد الرحمن أن عاملًا من العمال ضرب رجلًا حتى طلق امرأته، قال: فكتب فيه إلى عمر بن عبد العزيز قال: (فلم) (١) يجز ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عامل نے ایک شخص پر تشدد کیا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ جب یہ معاملہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس پیش ہوا تو انہوں نے اس طلاق کو درست قرار نہیں دیا۔
١٩٠١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن محمد بن إسحاق عن ثور عن (عبيد) (١) بن أبي (صالح) (٢) عن صفية بنت شيبة عن عائشة (قالت) (٣): قال رسول اللَّه ﷺ: "لا طلاق ولا عتاق في إغلاق" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زبردستی دی گئی طلاق اور آزادی کا کوئی اعتبار نہیں۔