١٨٧١٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر أنه أشهد على رجعة صفية حين راجعها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کیا تو اس پر گواہ بنائے۔
١٨٧١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن الشيباني عن الشعبي أنه سئل عن رجل طلق امرأته ثم راجعها فيجهل أن يشهد، قال: يشهد إذا علم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر رجوع کرلیا لیکن اسے گواہ بنانے کا علم نہیں تھا تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب معلوم ہو تب گواہ بنالے۔
١٨٧٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن عامر في الرجل يطلق امرأته ثم يجامعها قبل أن يشهد على مراجعتها، قال: كيف تقول يا مغيرة في رجل فعل بامرأة قوم ليس منها بسبيل؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر رجوع پر گواہ بنائے بغیر اس سے جماع کرلیا تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اے مغیرہ ! تم اس شخص کے بارے میں کیا کہو گے جو کسی قوم کی عورت کے ساتھ یہ کرے اور اس کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو !
١٨٧٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن عبيد عن خالد (النيلي) (١) عن أبي معشر عن إبراهيم في رجل طلق امرأته فأشهد، ثم راجعها (ولم) (٢) يشهد، قال: لم يكن يكره ذلك تأثما، ولكن كان يخاف أن يجحد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے اور طلاق پر گواہ بنائے لیکن رجوع کرے تو رجوع پر گواہ نہ بنائے اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کا گناہ تو نہیں ہوتا لیکن لوگوں میں انکار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
١٨٧٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في الرجل يطلق امرأته ثم يغشاها ولم يشهد قال: غشيانه لها مراجعة (فليشهد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے پھر اس سے جماع کرلے اور کسی کو گواہ نہ بنائے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ آدمی کو عورت سے جماع کرنا ہی رجوع ہے اب گواہ بنا لے۔
١٨٧٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم، حضرت شعبی اور حضرت طاؤس s فرماتے ہیں کہ جماع رجوع ہے، اب گواہ بنالے۔
١٨٧٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن عبد الملك بن أبي (غنية) (١) عن جويبر عن الضحاك في قوله: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ [الطلاق: ٢]، قال: أمروا أن يشهدوا عند الطلاق والرجعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَأَشْہِدُوا ذَوَیْ عَدْلٍ مِنْکُمْ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ طلاق اور رجوع پر گواہ بنائیں۔
١٨٧٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (أبي غنية) (١) عن أبيه عن الحكم في رجل يراجع امرأته ولا يشهد قال: فليشهد على رجعتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے رجوع کرے لیکن اس پر گواہ نہ بنائے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے رجوع پر گواہ بنانے چاہئیں۔
١٨٧٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن ابن (جريج) (١) عن عطاء قال: الفرقة والرجعة بالشهود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جدائی اور رجوع گواہوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔
١٨٧٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن الحكم في رجل طلق امرأته (فحنث) (١) وقد غشيها في عدتها وقد علم بذلك بعد انقضاء العدة قال: غشيانه لها مراجعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر عدت گزرنے کے بعد اس نے قسم کھائی کہ وہ عدت میں اس سے جماع کرچکا ہے تو اس کا جماع کرنا رجوع ہے۔
١٨٧٣٠ - [حدثنا أبو بكر قال: أخبرنا غندر عن شعبة عن إبراهيم مثل ذلك] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
١٨٧٣١ - حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن أيوب عن محمد عن (عمران) (١) بن حصين أنه سئل عن رجل طلق (امرأته) (٢) ولم يشهد وراجع ولم يشهد (٣) فقال: طلق في غير عدة وراجع في غير سنة، ليشهد على ما صنع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے اور اس پر گواہ نہ بنائے اور رجوع کرے اور اس پر بھی گواہ نہ بنائے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس نے بغیر شرعی طریقے کے طلاق دی اور شرعی طریقے کے بغیر رجوع کیا اسے چاہئے کہ اس پر گواہ بنائے۔