١٧٥٩٦ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كان لا يرى بأسًا إذا طلق الرجل امرأته ثلاثًا (١) أن يتزوج أختها في عدتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کسی عورت کو تین طلاقیں دے کر اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرلے۔
١٧٥٩٧ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن قتادة عن الحسن و (سعيد) (١) ابن المسيب وخلاس في رجل طلق امرأته ثلاثًا وهي حامل قالوا: لا بأس أن يتزوج أختها في عدتها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن، حضرت سعید بن مسیب اور حضرت خلاس فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی عورت کو تین طلاقیں دے اور وہ عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ عبید بن نضیلہ اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے۔ جب اس بات کا تذکرہ حسن سے کیا گیا تو گویا انہوں نے اسے ناپسند کیا۔