کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی کسی عورت کوطلاق دے تو کیا اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرسکتا ہے؟
١٧٥٩٠ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم عن علي أنه سئل عن رجل طلق امرأته فلم تنقض عدتها حتى تزوج أختها، ففرق علي بينهما وجعل لها الصداق بما استحل من فرجها وقال: (تكمل الأخرى عدتها وهو خاطب) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے کسی عورت کو طلاق دی اور اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرلی، اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دونوں کے درمیان جدائی کرادی اور مہر مرد کے ذمہ لازم رکھا۔ اور فرمایا کہ جب پہلی بیوی عدت پوری کرلے تو یہ نکاح کا پیغام بھیجے اگر اس نے دخول کیا ہے تو پورا مہر واجب ہوگا اور عورت پر پوری عدت ہوگی اور وہ دونوں عدت گزاریں گی اور ہر ایک کی عدت تین حیض ہوگی اگر انہیں حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے تک عدت گزاریں گی۔
١٧٥٩١ - حدثنا حفص عن ابن جريج عن عمرو بن شعيب قال: طلق رجل (امرأته) (١) ثم تزوج أختها، فقال ابن عباس لمروان: فرق (بينه وبينها) (٢) حتى تنقضي عدة التي طلق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر اس کی بہن سے شادی کی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مروان سے فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادو یہاں تک کہ طلاق یافتہ عورت کی عدت گزر جائے۔
١٧٥٩٢ - حدثنا جرير عن مغيرة عن (حماد) (١) عن إبراهيم قال: إذا نكح الرجل المرأة ثم طلقها؛ ثم تزوج أختها في عدتها قال: (نكاحها) (٢) حرام، ويفرق بينهما ولا صداق لها ولا عدة عليها و [إن كان دخل بها فلها الصداق كاملًا وعليها العدة كاملة ويعتدان منه جميعًا كل واحدة ثلاث قروء فإن كانتا لا تحيضان فثلاثة أشهر] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی کسی عورت سے شادی کرے پھر اسے طلاق دے دے۔ پھر اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرلے تو اس کا نکاح حرام ہے۔ ان دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی۔ عورت کے لئے نہ مہر واجب ہوگا اور نہ ہی عدت واجب ہوگی۔
١٧٥٩٣ - حدثنا وكيع عن زكريا قال: سئل عامر عن رجل نكح (امرأة) (١) ثم طلقها ثم تزوج أختها في عدتها، قال: يفرق بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زکریا فرماتے ہیں کہ حضرت عامر سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس کو طلاق دے دے پھر اس عورت کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کرلے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی۔
١٧٥٩٤ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن قال: كان يكره إذا كانت له امرأة فطلقها ثلاثًا كره أن يتزوج أختها حتى تنقضي عدة التي طلق.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ ایک آدمی کسی عورت کو تین طلاق دے دے اور اس کی عدت میں اسی کی بہن سے شادی کرلے۔
١٧٥٩٥ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا (يتزوج) (١) المرأة في عدة أختها منه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کسی عورت کو طلاق دے کر اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی نہیں کی کرسکتی۔