کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: باندی کو خریدنے کے بعد حمل سے محفوظ ہونے کایقین کرنا ضروری ہے
١٧٤٤٥ - حدثنا أبو بكر (عن) (١) عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن ابن سيرين في الرجل يشتري الأمة العذراء قا (ل) (٢): لا يقربن ما دون رحمها حتى (يستبرئها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص باندی خریدے تو اس کے حمل سے پاک ہونے کا یقین کرلینے تک اس کے قریب نہ جائے۔
١٧٤٤٦ - حدثنا إبراهيم بن صدقة عن يونس عن الحسن في (رجل) (١) (اشترى) (٢) (جارية) (٣) (عذراء) (٤) قال: (يستبرئ) (٥) رحمها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص باندی خریدے تو اس کے رحم کے خالی ہونے کا یقین کرلے۔
١٧٤٤٧ - حدثنا وكيع عن ربيع عن الحسن قال: يستبرئها وإن كانت بكرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ باندی کے حمل سے پاک ہونے کا یقین کرلے خواہ وہ باکرہ ہی کیوں نہ ہو۔
١٧٤٤٨ - حدثنا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى بن أبي كثير عن عكرمة مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
١٧٤٤٩ - حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء في رجل اشترى جارية بين أبويها عذراء قال: يستبرئها بحيضتين (وإن) (١) لا (تحيض) (٢) (فبخمسة) (٣) وأربعين يومًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو شخص باندی خریدے تو دو حیضوں تک اس کے حمل سے پاک ہونے کا یقین کرلے اور اگر اسے حیض نہ آتے ہوں تو پینتالیس دن تک انتظار کرے۔
١٧٤٥٠ - حدثنا عبد الوهاب عن (سعيد) (١) عن أيوب (عن نافع) (٢) عن ابن عمر (قال) (٣): إن اشترى أمة عذراء فلا يستبرئها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو پردہ نشین باندی خریدے اس کے حمل سے پاک ہونے کا یقین کرنا ضروری نہیں۔