١٦٩٧٦ - حدثنا جرير (بن) (١) عبد (الحميد) (٢) عن مغيرة عن سماك بن سلمة أن شريحًا أجاز (نكاح) (٣) (وصي، وصي) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک بن حرب فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے وصی کے کرائے ہوئے نکاح کو درست قرار دیا۔
١٦٩٧٧ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث قال: (يشاور) (١) الولي الوصي في النكاح، و (يلي) (٢) عقدة النكاح: الولي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ ولی نکاح کرانے کے لئے وصی سے مشورہ کرے گا اور عقدنکاح کا نگران ولی ہی ہوگا۔
١٦٩٧٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن حماد في وصي (زوّج) (١) يتيمة صغيرة في حجره قال: (جائز) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کسی وصی نے اپنی پرورش میں موجود کسی یتیم بچی کا نکاح کرادیا تو یہ جائز ہے۔
١٦٩٧٩ - حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن في الوصي (يزوج) (١) قال: هو جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی وصی نکاح کرادے تو جائز ہے۔
١٦٩٨٠ - حدثنا ابن نمير عن (حريث) (١) عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ نکاح کے علاوہ وصی کا ہر تصرف جائز ہے۔
١٦٩٨١ - (و) (١) عن الحكم وحماد عن إبراهيم (قالا) (٢): ما صنع الوصي فهو جائز إلا النكاح.
١٦٩٨٢ - حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن أنه كان لا يجعل للوصي (من) (١) أمر النكاح شيئًا إلا أن يكون (قد) (٢) قال: أنت وصي في نكاح (أخواتي) (٣) (وبناتي) (٤) فإن فعل فالوصي أحق من الولي، وإلا فالولي أحق من الوصي.
مولانا محمد اویس سرور
حسن وصی کو نکاح کی اجازت نہ دیتے تھے البتہ اگر اسے وصی بنانے والا یہ کہے کہ تو میری بہنوں اور میری بیٹیوں کے نکاح کا وصی ہے۔ اگر وہ ایسا کرے تو وصی نکاح کے معاملے میں ولی سے زیادہ حق دار ہے۔ اگر یہ نہ کہا تو ولی وصی سے زیادہ حق دار ہوگا۔