کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرلے تو اس کا کیا حکم ہے؟
١٦٨٠٥ - حدثنا أبو بكر قال نا وكيع (عن سفيان) (١) عن هشام عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی، پھر آقا نے اسے اجازت دے دی تو جائز ہے۔
١٦٨٠٦ - وعن مغيرة عن إبراهيم قالا: إذا تزوج العبد بغير إذن مولاه ثم أذن المولى فهو جائز.
١٦٨٠٧ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن منصور عن الحسن قال: إذا أجازه المولى فهو جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی، پھر آقا نے اسے اجازت دے دی تو جائز ہے۔
١٦٨٠٨ - حدثنا عبدة (بن) (١) سليمان عن سعيد عن قتادة عن ابن المسيب والحسن في العبد يتزوج بغير إذن سيده، (قالا) (٢): إن شاء أجاز النكاح سيده وإن شاء رده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب اور حسن فرماتے ہیں کہ اگر غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی تو آقا اگر چاہے تو اجازت دے دے اور چاہے تو منع کردے۔
١٦٨٠٩ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن الحكم قال: (قال) (١): إن أجازه (المولي) (٢) جاز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر آقا نے غلام کے نکاح کو باقی رکھا تو باقی رہے گا۔ حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اجازت ملنے پر دوبارہ نکاح کرے گا۔