١٥٩١٥ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن (أبي) (٢) زائدة عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: هل (تبرح) (٣) (موقفك) (٤) بعرفة قبل الإمام؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ کیا آپ امام سے پہلے عرفات سے ہٹتے ہو (جاتے ہو) ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔
١٥٩١٦ - حدثنا أبو (بكر) (١) قال: حدثنا وكيع عن سفيان (عن) (٢) (ابن ⦗٥٣٩⦘ خثيم) (٣) (٤) عن (يوسف) (٥) بن ماهك عن ابن عمر أنه دفع قبل الإمام (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما عرفات سے امام سے قبل ہی چلے جایا کرتے تھے۔
١٥٩١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل (عن إبراهيم) (١) (بن) (٢) عبد الأعلى قال: أفاض صاحب لنا قبل الإمام (فسألت) (٣) مجاهدًا، فقال: (يهريق) (٤) دمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن عبد الاعلیٰ فرماتے ہیں کہ ہمارا ایک ساتھی عرفات سے امام سے پہلے ہی چلا گیا، میں نے حضرت مجاہد سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ قربانی کرے، (اس پر قربانی لازم ہے) ۔
١٥٩١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن قال: إذا أفاض قبل الإمام فعليه دم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر امام سے پہلے عرفات سے چلا گیا تو قربانی لازم ہے۔