کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے حالت احرام والی عورت کے لیے زیور اور زیب وزینت کو ناپسند کیا ہے
١٤٧٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن ابن جريج عن عطاء قال: كان يكره للمحرمة أن تلبس الحلي المشهور قال: قلت فالعقد؟ قال: إن كان عقدًا مشهورًا فلا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء محرمہ کے لیے ایسے زیور کے استعمال کو ناپسند کرتے تھے جس کی آواز وغیرہ ہو، آپ سے دریافت کیا گیا کہ وہ ہار پہن سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر اس کی آواز نہ ہو۔
١٤٧٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد قال: لا تزين المحرمة ولا تكتحل (لزينة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ محرمہ عورت زیب وزینت اختیار نہ کرے اور زینت کے لیے سرمہ بھی نہ استعمال کرے۔
١٤٧٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان (عن عطاء بن السائب) (١) (عن عطاء) (٢): أنه كره الحلي للمحرمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء محرمہ کے لیے زیور کے استعمال کو ناپسند کرتے تھے۔
١٤٧٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عبد الملك عن عطاء قال: كان (يكره) (١) أن تلبس المحرمة الحلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے یہی مروی ہے۔