١٤٥٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن خصيف عن مجاهد قال: قال ابن عباس: قال الفضل بن عباس: كنت ردف (رسول اللَّه) (١) ﷺ (فما زلت) (٢) أسمعه يلبي حتى رمى جمرة العقبة، فلما رماها قطع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضل بن عباس فرماتے ہیں کہ سفر حج میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ردیف تھا، میں مسلسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تلبیہ سنتا رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ کہنا چھوڑ دیا۔
١٤٥٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى (١) عن محمد بن إسحاق قال: حدثني أبان بن صالح عن عكرمة قال: دفعت مع (حسين بن ⦗٢١٧⦘ علي) (٢) من (المزدلفة) (٣)، فلم أزل اسمعه يلبي يقول: لبيك حتى انتهى إلى الجمرة، فقلت له: ما هذا (الإهلال) (٤) يا (أبا) (٥) عبد اللَّه؟ قال: سمعت أبي علي بن أبي طالب يهل (حتى) (٦) انتهى إلى الجمرة، وحدثني أن رسول اللَّه ﷺ أهل حتى انتهى إليها (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ سے روانہ ہوا، میں آپ سے مسلسل تلبیہ سنتا رہا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کرلی، میں نے آپ سے دریافت کیا اے ابو عبد اللہ ! تلبیہ کی کیا صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تلبیہ سنا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کرلی، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پڑھتے رہتے تھے۔
١٤٥٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا صفوان بن عيسى عن الحارث بن عبد الرحمن بن أبي (ذباب) (١) عن مجاهد عن عبد اللَّه بن (سخبرة) (٢) عن عبد اللَّه قال: (خرجت) (٣) مع رسول اللَّه ﷺ فما ترك التلبية حتى أتى (جمرة) (٤) (العقبة) (٥) إلا أن (يخلطها) (٦) بتكبير أو تهليل (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے سفر میں نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ عقبہ پر تشریف لائے، پھر حضور تلبیہ کے ساتھ تکبیر یا تہلیل کو بھی ملا کر پڑھنے لگے۔
١٤٥٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه عن علي بن حسين عن ابن عباس عن الفضل بن عباس: أن النبي ﷺ لم يزل (يلبي) (١) حتى رمى جمرة العقبة، فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضل بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہنا نہیں چھوڑا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات کنکریوں سے اس کی رمی فرمائی اور ہر کنکری پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر پڑھتے۔
١٤٥٣٦ - [حدثنا أبو بكر (قال) (١): أخبرنا ابن نمير عن ابن أبي ليلى عن عطاء عن ابن عباس قال: لبى رسول اللَّه ﷺ حتى رمى جمرة العقبة] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہتے۔
١٤٥٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: حججت مع (عمر) (١) سنتين إحداهما في السنة التي أصيب فيها؛ كل ذلك (يلبي) (٢) حتى (رمى) (٣) جمرة العقبة [من بطن الوادي (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمربن خطاب کے ساتھ دو سال حج کیا، ایک حج اس سال کیا جس سال میں آپ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا، آپ تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی (تو تلبیہ ترک کردیا) ۔
١٤٥٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عباد) (١) بن العوام عن هلال بن (الخباب) (٢) عن عكرمة عن ابن عباس (أن عمر) (٣): لبى حتى رمى جمرة ⦗٢١٩⦘ العقبة] (٤) (وإن ابن عباس كان يلبي حتى يرمي جمرة العقبة) (٥)، وقال: إنما (يفتتح) (٦) الحل الآن (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہتے۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہتے، اور فرماتے کہ اب ہم حلال ہونے کو کھول رہے ہیں۔
١٤٥٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن (عامر) (١) بن شقيق عن (أبي) (٢) وائل عن عبد اللَّه أنه لبى حتى رمى جمرة العقبة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہتے۔
١٤٥٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص ووكيع ومروان بن معاوية وعلي بن هاشم عن محمد بن شريك عن عطاء قال: كان علي (يلبي) (١) (يقطع) (٢) التلبية إذا رمى جمرة العقبة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تلبیہ پڑھتے رہتے، جب آپ جمرہ عقبہ کی رمی فرما لیتے تو تلبیہ کہنا بند کردیتے۔
١٤٥٤١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن عن عبد اللَّه أنه كان لا يترك التلبية حتى يرمي جمرة العقبة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ جب تک جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرلیتے تلبیہ کہنا ترک نہ کرتے۔
١٤٥٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن الحسن عن عكرمة قال: أرسلني ابن عباس مع حسين بن علي، فلبى حتى رمى جمرة العقبة] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ (سفر حج میں) بھیجا، آپ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہتے۔
١٤٥٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حرملة قال: قال (سعيد) (١) بن المسيب: الإهلال في الحج حتى تروح إلى الموقف عشية عرفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ سفر حج میں تلبیہ پڑھتا رہے گا یہاں تک کہ عرفہ میں شام کے وقت داخل ہوجائے۔
١٤٥٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أفلح قال: رأيت القاسم يقطع التلبية إذا راح إلى الموقف، قال: وكانت عائشة تفعله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت افلح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم کو سفر حج میں دیکھا آپ نے تلبیہ کہنا تب بند کیا جب وقوف عرفہ کی شام ہوگئی، فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس طرح کرتی تھیں۔
١٤٥٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن هشام بن عروة عن أبيه قال: [كان لا يقطع التلبية في الحج (حتى) (١) يروح إلى عرفات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ حج میں تلبیہ کہنا بند نہ کرتے تھے، یہاں تک کہ عرفات کی شام ہوجاتی۔
١٤٥٤٦ - حدثنا أبو بكر قال] (١): حدثنا أسباط بن محمد عن أشعث عن ابن سيرين قال: كان ابن عمر يمسك عن التلبية في الحج إذا دخل الحرم، (فإذا) (٢) طاف بالبيت (لبي) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سفر حج میں جب حرم میں داخل ہوتے تو تلبیہ پڑھنے سے رک جاتے۔ پھر جب طواف شروع کرتے تو تلبیہ پڑھتے۔
١٤٥٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن سعيد بن أبي عروبة عن أبي معشر عن إبراهيم عن علقمة (و) (١) الأسود عن عبد اللَّه أنه كان لا يقطع التلبية حتى يرمي جمرة العقبة في أول حصاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ جب تک جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری نہ مارتے تب تک تلبیہ پڑھنا ترک نہ کرتے۔
١٤٥٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق قال: سأل أبي عكرمة وأنا أسمع عن الإهلال متى ينقطع فسمعته (١) يقول: أهل رسول اللَّه ﷺ حتى رمى الجمرة، وأبو بكر وعمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم نے حضرت عکرمہ سے سوال کیا اور میں سن رہا تھا کہ تلبیہ پڑھنا کب ترک کرے ؟ میں نے سنا کہ آپ نے جوب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرات شیخین نے جمرہ کی رمی تک تلبیہ پڑھا۔
١٤٥٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن عامر ابن (شقيق) (١) عن أبي وائل عن عبد اللَّه: أنه لبى حتى رمى جمرة العقبة، وقطع بأول حصاة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ نے جب تک جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری نہ مار دی تب تک تلبیہ پڑھتے رہے ( پہلی کنکری پر تلبیہ پڑھنا چھوڑا) ۔