١٤٢١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الحسن بن عمرو عن (مهران أبي صفوان) (١) عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أراد منكم الحج فليتعجل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ جلدی کرے۔
١٤٢١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الأعمش قال: كان حبيب وأصحابه (يتأخرون) (١) حتى يدخل من ذي القعدة ما شاء اللَّه، فكره ذلك إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت حبیب اور اس کے ساتھی حج میں تاخیر کرتے تھے یہاں تک کہ ذوالقعدہ کا مہینہ داخل ہوجاتا، ابراہیم نے اس فعل کو ناپسند فرمایا۔
١٤٢١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي عن (أبي سنان) (١) عن عمرو بن مرة قال: كان طاوس يقدم في أول الناس وينفر في آخر الناس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس لوگوں میں سے سب سے پہلے حج کے لیے جانے والے ہوتے اور سب سے آخر میں واپس آنے والے۔
١٤٢١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أزهر عن ابن عون قال: كان محمد لا يرى بأسًا أن يشتري الرجل البعير يتعجل عليه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ کوئی شخص اونٹ خریدے سفر حج کے لیے اور اس پر جلدی سفر کرے۔
١٤٢١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن بُريد بن عبد اللَّه عن جده أبي بردة قال: أهللت (١) (هلال) (٢) ذي الحجة بالكوفة، ثم وافيت الناس بالموقف عشية عرفة، فلم يعب ذلك أبو موسى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں نے ذی الحجہ کے مہینے میں کوفہ سے احرام باندھا پھر میں وقوف عرفہ کی شام میں لوگوں کے ساتھ ملا، لیکن ابو موسیٰ نے میرے اس فعل پر کوئی نکیر نہ فرمائی۔
١٤٢١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن محمد بن (برجان) (١) عن جابر بن زيد أنه سار من البصرة إلى مكة في إثني عشر أو ثلاث عشر الشك مني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید بصرہ سے مکہ کے لیے بارہویں یا تیرہویں تاریخ کو چلے، راوی کہتے ہیں تاریخ میں شک میری طرف سے ہے۔
١٤٢١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن (١) عاصم عن (٢) المسيب قال: سار إلينا عبد اللَّه من المدينة حين قتل عمر في سبع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ مدینہ سے مکہ تشریف لائے سات تاریخ کو جب حضرت عمر شھید کیے گئے۔
١٤٢١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أزهر عن ابن عون عن نافع عن ابن عمر أنه سار من مكة إلى المدينة في ثلاث حين استُصرخ على صفية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ مکرمہ سے مدینہ کے لیے تشریف لے گئے تین دنوں میں جب حضرت صفیہ کی وفات ہوئی۔