١٤٠٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن (عبيد اللَّه) (١) بن ⦗١٠٤⦘ عمر قال: نبئت عن القاسم وسالم أنهما كانا يقولان: أهل مكة إذا خرجوا إلى منى قصروا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اور حضرت سالم فرماتے ہیں کہ مکہ کا رہنے والا جب منیٰ جائے گا تو وہ نماز قصر ادا کرے گا اور حضرت عطاء اور حضرت زہری فرماتے ہیں وہ نماز پوری ادا کرے گا۔
١٤٠٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن إسماعيل بن أمية عن نافع عن ابن عمر أنه كان يقيم بمكة فإذا خرج إلى منى قصر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ مکرمہ میں مقیم تھے، جب آپ سفر حج میں منیٰ تشریف لے گئے تو آپ نے نماز قصر ادا فرمائی۔
١٤٠٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن حنظلة قال: سألت القاسم عن الصلاة مع الإمام بعرفة، فقال: صل (بصلاته) (١) فقلت: إني مكي قال: قد عرفت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے عرفہ میں امام کے ساتھ با جماعت نماز ادا کرنے کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا اس کی نماز کے ساتھ پوری نماز ادا کرو، میں نے عرض کیا کہ میں مکی ہوں ؟ آپ نے فرمایا مجھے معلوم ہے۔ پھر میں نے حضرت سالم اور حضرت طاؤس سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی اسی طرح ارشاد فرمایا۔
١٤٠٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه عن عثمان بن الأسود عن مجاهد وعطاء قالا: ليس على أهل مكة قصر صلاة في الحج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مکہ والوں پر سفر حج میں نمازیں قصر نہیں ہیں (پوری ہیں) ۔