کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: آدمی کا اپنی بیوی کو حج کروانا لازم ہے کہ نہیں؟
❮
❯
١٤٠٣٤ - [حدثنا (أبو بكر قال: حدثنا) (١) يزيد بن هارون قال: حدثنا (سليم) (٢) ابن (حيان) (٣) قال: ثنا موسى بن قطن عن (مية) (٤) بنت محرز ⦗٩٧⦘ (قالت) (٥): سمعت عمر بن الخطاب يقول: (أحجوا) (٦) هذه (الذرّية) (٧) ولا تأكلوا أرزاقها وتدعوا (أرباقها) (٨) في أعناقها (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب ارشاد فرماتے ہیں کہ (اس مخلوق کو بھی) اپنی بیویوں کو حج کرواؤ اور ان کے رزق میں سے مت کھاؤ اور ان کی رسی ان ہی کی گردنوں پر ڈال دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14034
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14034، ترقيم محمد عوامة 13704)
١٤٠٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن عطاء قال: ليس على الرجل يحج بامرأته إلا أن يشاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مرد کے ذمہ بیوی کو حج کروانا لازم نہیں ہے اگر چاہے تو کروا سکتا ہے۔ اور حضرت یحییٰ بن کثیر فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے پہلے حج نہ کیا ہوا ہو تو مرد اس کو حج کرواؤ۔ اور حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ تم پر لازم ہے کہ اپنی عورتوں کو حج کرواؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14035
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14035، ترقيم محمد عوامة 13705)
١٤٠٣٦ - قال الأوزاعي (١) يحيى بن أبي (كثير) (٢): هو عليه إن كانت لم تحج.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14036
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14036، ترقيم محمد عوامة ---)
١٤٠٣٧ - قال مكحول: (عليكم) (١) إحجاج نسائكم] (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14037
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14037، ترقيم محمد عوامة ---)