١٣٧٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن حميد قال: (سألت السائب ماذا) (١) سمعت في سكنى مكة؟ فقال: سمعت العلاء ابن (الحضرمي) (٢) (يقول) (٣): قال رسول اللَّه ﷺ: [ثلاث للمهاجر بعد الصدر] (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن حمید فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت سائب سے دریافت کیا کہ آپ نے مکہ میں قیام کے متعلق کیا سن رکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے حضرت العلاء بن الحضرمی سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مکہ سے ہجرت کرنے والا شخص حج کے بعد تین دن تک مکہ میں قیام کرسکتا ہے۔
١٣٧٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن إسماعيل بن أبي خالد قال: سمعت (عامرًا) (١) يقول: [ما (جاور) (٢) أحد من أصحاب النبي ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مہاجرین) میں سے کسی نے بھی مکہ میں قیام نہ فرمایا : اور حضرت عامر فرماتے تھے قیام نہیں ہے ؟
١٣٧٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان قال: جاورت مع (جابر بن عبد اللَّه) (١) بمكة ستة أشهر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ میں چھ ماہ قیام کیا۔
١٣٧٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن عطاء قال: جاور عندنا جابر بن عبد اللَّه وابن عمر وابن عباس وأبو هريرة وأبو سعيد الخدري (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید الخدری نے مکہ میں ہمارے پاس قیام کیا۔
١٣٧٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن أبيه عن (ابن) (١) الزبير قال: كان (يقيم) (٢) بمكة السنتين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے مکہ میں دو سال تک قیام فرمایا۔
١٣٧٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن عبد الملك قال: جاورت بمكة وثَمّ علي بن (الحسين) (١) وسعيد بن جبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ میں قیام کیا تو وہاں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین اور حضرت سعید بن جبیر بھی موجود تھے۔
١٣٧٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن عبد الملك عن عطاء قال: أتيت أنا وعبيد بن عمير الليثي عائشة وهي مجاورة بثبير (قال) (١): وكان عليها نذر أن تجاور شهرًا، قال: وكان عبد الرحمن أخوها يمنعها من ذلك، ويقول: جوار البيت وطواف به أحب إليّ وأفضل، قال: فلما مات عبد الرحمن خرجت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت عبید بن عمیر اللیثی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آپ مقام ثبیر میں مقیم تھیں، راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے نذر مانی تھی کہ وہ ایک ماہ تک قیام کریں گی، اور ان کے بھائی حضرت عبد الرحمن نے ان کو اس سے منع فرمایا اور فرماتے تھے کہ بیت اللہ میں قیام کرنا اور اس کا طواف کرنا میرے نزدیک اس سے افضل اور بہتر ہے، راوی کہتے ہیں جب حضرت عبد الرحمن کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نکلیں۔
١٣٧٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمر بن أبي معروف عن ابن أبي مليكة قال: قال عمر: لا تقيموا بعد النفر إلا (ثلاثًا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ حج سے چلے جانے بعد مکہ میں تین دن سے زیادہ قیام نہ کرو۔
١٣٧٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن إسماعيل قال: كان الشعبي إذا سئل عن الجوار جاء (بكتاب) (١) رسول اللَّه ﷺ (إلى خزاعة) (٢): "إني قد (أخذت لمن هاجر) (٣) منكم كما أخذت لنفسي ولو كان بأرضه (غير) (٤) ساكن مكة، إلا حاجا أو (معتمرا) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ جب حضرت شعبی سے مکہ میں قیام کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ مکتوب لے آئے جو خزاعہ والوں کی طرف لکھا تھا، اس میں مکتوب تھا کہ میں نے ہر مہاجر کے لیے وہ حکم لیا ہے جو اپنے لیے ہے اگرچہ وہ اسی زمین سے تھا کہ وہ حج اور عمرہ کے علاوہ مکہ میں قیام نہیں کرے گا۔
١٣٧٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عيسى عن الشعبي (عن عبد اللَّه) (١) قال: مكة (ليست) (٢) بدار إقامة ولا مكث (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ مکہ اقامت اور ٹھہرنے کا گھر نہیں ہے۔
١٣٧٨٨ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا (علي) (٢) بن مسهر عن الأجلح عن عامر قال: لا يصلح (للمهاجر) (٣) أن (يجاور) (٤) فوق ثلاثة أيام بمكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ مہاجر کے لیے مکہ میں تین دن سے زیادہ قیام کرنے کی اجازت نہیں۔