کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: محرم حالت احرام میں بیوی کو شرعی ملاقات پر مجبور کرے تو اس پر کیا ہے؟
١٣٧٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن الشعبي قال: (إن) (١) استكره المحرم امرأته وهي (محرمة) (٢)، فعليه بدنتان: بدنة عنه وبدنة عنها، وإن طاوعته فعلى كل واحد منهما بدنة والحج من قابل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر محرم اپنی محرمہ بیوی کو شرعی ملاقات پر مجبور کرے تو مرد پر دو قربانیاں لازم ہیں ایک اپنی طرف سے اور ایک بیوی کی طرف سے، اور اگر بیوی کی بھی رضا مندی شامل ہو تو پھر ہر ایک پر اونٹ لازم ہے اور آئندہ سال حج کی قضاء لازم ہے۔
١٣٧٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن وعطاء قالا في المحرم (إن) (١) استكره امرأته: فعليه كفارتها، فإن طاوعته فعلى كل واحد منهما كفارة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء محرم کے متعلق فرماتے ہیں کہ اگر وہ بیوی کو شرعی ملاقات پر مجبور کرے تو بیوی کا کفارہ بھی اس پر ہے اور اگر بیوی کی رضا مندی شامل ہو تو دونوں پر کفارہ ہے۔
١٣٧٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم (قال: حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن حجاج عن عطاء في (المحرمة) (٢) يستكرهها زوجها حتى يواقع، قال: (يحجها) (٣) من ماله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ اگر مرد محرمہ بیوی کو مجبور کر کے اس کے ساتھ شرعی ملاقات کرلے، آپ نے فرمایا وہ اس کو اپنے پیسوں سے دوبارہ حج کروائے۔