١٣٦٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن فضيل (١) ووكيع عن هشام بن عروة عن أبيه قال: قال النبي ﷺ (لعبد الرحمن) (٢) بن عوف: "ما صَنَعْتَ؟ " قال: (استلمت) (٣) وتركت قال: "أَصَبْتَ" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے دریافت فرمایا : طواف میں تو نے کیا کیا ؟ آپ نے فرمایا میں نے حجر اسود کا استلام کیا اور اس کو چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو نے ٹھیک کیا۔
١٣٦٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن طلحة بن يحيى عن القاسم (قال) (١): رأيت ابن عمر زاحم على الحجر حتى دمي منخره (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حجر اسود پر دھکے دیتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ کی ناک خون آلود ہوگئی۔
١٣٦٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن سعيد بن جبير قال: طفت معه، فكان لا يزاحم على الحجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الشیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کے ساتھ طواف کیا آپ حجر اسود پر دھکے نہ دیتے (بلکہ استلام کر کے گذر جاتے) ۔
١٣٦٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو (سعد) (١) محمد بن (ميسر) (٢) عن ابن جريج ⦗٥٣٧⦘ عن عطاء قال: (٣) إذا كان على الحجر زحام فلا (تؤذي ولا تؤذين) (٤) وابعد منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب حجر اسود پر اژدہام دیکھو تو نہ کسی کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ خود تکلیف اٹھاؤ اور اس سے دور ہو جاؤ۔
١٣٦٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن المختار (بن) (١) عمرو عن جابر بن زيد (قال) (٢): لا يزاحم على الحجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید حجر اسود پر ازدحام نہ کرتے تھے (کسی کو دھکا نہ دیتے تھے) ۔
١٣٦٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن فضيل عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس قال: كان يكره أن يزاحم على الحجر تؤذي مسلمًا أو يؤذيك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ حجر اسود پر لوگوں کو دھکا دیا جائے، مسلمانوں کو تکلیف ہو اور تمہیں خود تکلیف ہو۔
١٣٦٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا عبيد اللَّه عن إسرائيل عن جابر عن عطاء ومجاهد ومحمد بن علي وسالم والقاسم أنهم لم يكونوا يزاحمون على الحجر وكانوا (يقومون) (١) ساعة مستقبلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت مجاہد، حضرت محمد بن علی، حضرت سلالم اور حضرت قاسم حجر اسود پر دھکے دینے کو ناپسند کرتے تھے، وہ حجر اسود کے سامنے کچھ دیر کھڑے ہوتے اور گذر جاتے۔
١٣٦٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا الفضل بن دكين عن سعيد بن عبيد الطائي قال: رأيت الحسن أتى الحجر، فرأى زحاما، فلم يستلمه، فدعا، ثم أتى المقام فصلى عنده ركعتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عبید الطائی فرماتے ہیں کہ حسن نے حجر اسود پر اژدحام دیکھا تو استلام نہ کیا، آپ نے دعا کی اور مقام ابراہیم پر آگئے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
١٣٦٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع عن أبي العوام عن عطاء عن ابن عباس أنه كان يستلمه ولا يزاحم (عليه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حجر اسود کا استلام فرماتے لیکن دھکم پیل نہ کرتے جب کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس طرح کرتے۔