١٢١١٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا غندر عن شعبة عن ابن أبي عروبة عن أيوب عن أبي قلابة قال: واللَّه إن قيامهم على القبر لبدعة حتى (توضع) (١) في قبرها إذا صلى عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! لوگوں کا نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد تدفین تک قبر پر کھڑے ہونا بدعت ہے۔
١٢١١٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن علية عن (ابن) (١) عون قال: سألت الشعبي عن القيام (للجنازة) (٢) حتى (توضع) (٣) في اللحد؟ فقال: ما رأيت أحدًا يصنع ذلك إلا أبا مرحوم، ذاك الشامي، وكانوا يهزؤون به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے دریافت کیا جنازے کے لئے کھڑے رہنا یہاں تک کہ اس کو لحد میں رکھ دیا جائے (کیسا ہے ؟ ) آپ نے فرمایا میں نے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا سوائے ابو مرحوم جو کہ شامی تھے اور لوگ ان پر ہنستے تھے۔
١٢١١٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره القيام عند القبر
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم قبر کے پاس کھڑے ہونے کو ناپسند فرماتے تھے۔
١٢١٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا معتمر بن سليمان عن ابن (عون) (١) قال: ذكر للشعبي القيام (للجنازة) (٢) حتى (توضع) (٣) (فكأنه) (٤) لم يعرف ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے جنازہ رکھے جانے سے قبل اس کے لیے کھڑے رہنے کے متعلق دریافت کیا تو گویا کہ ان کو اس کے بارے میں علم ہی نہ تھا۔ (وہ اس کو جانتے ہی نہ تھے) ۔ پھر میں نے حضرت مجاہد سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا : یہ تب ہے جب اس پر نماز پڑھی گئی ہو تو دفنانے سے پہلے نہ بیٹھا جائے۔