١٢٠٢٣ - حدثنا خلف بن خليفة عن أبيه (أنه سمع أن) (١) النبي ﷺ (٢) أدخل نعيم بن مسعود الأشجعي القبر ونزع الأخلة (بفيه) (٣)، يعني العقد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلف بن خلیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سنا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حضرت نعیم بن مسعود الاشجعی کو قبر میں اتارا تو ان کے منہ سے گرہ کھول دی۔
١٢٠٢٤ - حدثنا حاتم بن وردان عن (الجريري) (١) عن رجل عن أبي هريرة قال: شهدت العلاء بن الحضرمي فدفناه فنسينا أن نحل العقد حتى أدخلناه قبره قال: فرفعنا عنه اللبن فلم نر في القبر شيئًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت العلاء بن الحضرمی کے دفنانے کے وقت حاضر تھا، ہم ان کی گرہ کھولنا بھول گئے اور انیں قبر میں دفنا دیا، پھر ہم نے قبر سے اینٹ اٹھائی تو ہمیں قبر میں کچھ بھی نظر نہ آیا۔
١٢٠٢٥ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا أدخل الميت القبر (حل عنه) (١) العقد كلها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب میت کو قبر میں داخل کیا جائے تو اسکی تمام گرہیں کھول دی جائیں گی۔
١٢٠٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن عامر قال: يحل عن الميت العقد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ میت سے گرہ کھول دی جائے گی۔
١٢٠٢٧ - حدثنا هشيم عن جويبر قال: أوصاني الضحاك به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جویبر فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے اسی کی وصیت فرمائی تھی۔
١٢٠٢٨ - [حدثنا هشيم عن هشام عن الحسن وابن سيرين (قالا) (١): يحل عن الميت العقد.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میت کی گرہ کھول دی جائے گی۔
١٢٠٢٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن جويبر عن الضحاك أنه أوصى: أن تحل عنه العقد ويبرز وجهه من الكفن] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جویبر فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کی گرہ کھول دی جائے اور چہرہ کفن سے نکال دیا جائے۔