کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: قبر پر کپڑا لٹکانے کا بیان
❮
❯
١٢٠١٩ - حدثنا سفيان عن أبي إسحاق قال: شهدت جنازة الحارث فمدوا على قبره ثوبًا (فجبذه) (١) عبد اللَّه بن يزيد (قال) (٢): إنما هو رجل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں حضرت حارث کے جنازے میں حاضر ہوا لوگوں نے آپ کی قبر پر کپڑا لٹکایا (پردہ کیلئے) حضرت عبد اللہ بن یزید نے اس کو کھینچ دیا اور فرمایا یہ مرد ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12019
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12019، ترقيم محمد عوامة 11785)
١٢٠٢٠ - حدثنا وكيع عن (حسن) (١) بن صالح عن يحيى بن قيس أن شريحًا أوصى أن لا يمدوا على قبره ثوبًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے وصیت فرمائی تھی کہ میری قبر پر کپڑا نہ لٹکانا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12020
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12020، ترقيم محمد عوامة 11786)
١٢٠٢١ - حدثنا (حفص عن) (١) عاصم قال: شهدت جنازة رجل فيها الحسن وابن سيرين فمُدَّ على قبره ثوب فقال الحسن: اكشفوه فإنما هو رجل ولم ير (٢) ابن سيرين (به) (٣) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہں، کہ میں ایک شخص کے جنازے میں شریک تھا جس میں حسن اور حضرت ابن سیرین بھی تھے، اس کی قبر پر کپڑا لٹکایا گیا تو حسن نے فرمایا : (اس کی کیا ضرورت ہے) یہ تو مرد ہیں، اور حضرت ابن سیرین اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12021
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12021، ترقيم محمد عوامة 11787)
١٢٠٢٢ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن سلمة عن أبي حمزة عن إبراهيم أن النبي ﷺ دخل قبر (سعد) (١) فمد عليه ثوبًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کو قبر میں اتارا تو اس پر کپڑا لٹکایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12022
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ أبو حمزة ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12022، ترقيم محمد عوامة 11788)