حدیث نمبر: 12019
١٢٠١٩ - حدثنا سفيان عن أبي إسحاق قال: شهدت جنازة الحارث فمدوا على قبره ثوبًا (فجبذه) (١) عبد اللَّه بن يزيد (قال) (٢): إنما هو رجل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں حضرت حارث کے جنازے میں حاضر ہوا لوگوں نے آپ کی قبر پر کپڑا لٹکایا (پردہ کیلئے) حضرت عبد اللہ بن یزید نے اس کو کھینچ دیا اور فرمایا یہ مرد ہیں۔
حدیث نمبر: 12020
١٢٠٢٠ - حدثنا وكيع عن (حسن) (١) بن صالح عن يحيى بن قيس أن شريحًا أوصى أن لا يمدوا على قبره ثوبًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے وصیت فرمائی تھی کہ میری قبر پر کپڑا نہ لٹکانا۔
حدیث نمبر: 12021
١٢٠٢١ - حدثنا (حفص عن) (١) عاصم قال: شهدت جنازة رجل فيها الحسن وابن سيرين فمُدَّ على قبره ثوب فقال الحسن: اكشفوه فإنما هو رجل ولم ير (٢) ابن سيرين (به) (٣) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہں، کہ میں ایک شخص کے جنازے میں شریک تھا جس میں حسن اور حضرت ابن سیرین بھی تھے، اس کی قبر پر کپڑا لٹکایا گیا تو حسن نے فرمایا : (اس کی کیا ضرورت ہے) یہ تو مرد ہیں، اور حضرت ابن سیرین اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
حدیث نمبر: 12022
١٢٠٢٢ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حماد بن سلمة عن أبي حمزة عن إبراهيم أن النبي ﷺ دخل قبر (سعد) (١) فمد عليه ثوبًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کو قبر میں اتارا تو اس پر کپڑا لٹکایا۔