کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: عورت کے کہاں کھڑا ہوا جائے نماز جنازہ میں اور مرد کے کہاں کھڑا ہوا جائے
١١٨٩٠ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن حسين المكتب عن عبد اللَّه بن (بريدة) (١) عن سمرة بن جندب أن النبي ﷺ صلى على امرأة فقام وسطها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کا جنازہ پڑھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔
١١٨٩١ - حدثنا وكيع عن همام عن (غالب أو أبي) (١) غالب عن أنس أنه: أتي بجنازة رجل، فقام عند رأس السرير، وجيء بجنازة امرأة فقام أسفل من ذلك عند (الصدر) (٢)، فقال العلاء بن زياد: هكذا رأيت رسول اللَّه ﷺ يصنع؟ قال: نعم، ثم أقبل علينا فقال: احفظوه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الغالب فرماتے ہیں کہ حضرت انس کے پاس ایک شخص کا جنازہ لایا گیا تو آپ اس کی چارپائی کے سر کے پاس کھڑے ہوئے اور ایک عورت کا جنازہ لایا گیا تو آپ اس کے سینے کے پاس کھڑے ہوئے، حضرت علاء بن زیاد نے دریافت کیا، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، پھر آپ ھماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اس کو یاد کرلو۔
١١٨٩٢ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن يزيد بن أبي منصور قال: قلت لأبي رافع أين (أقوم) (١) من الجنازة (٢)؟ فخلع نعله ثم قال (٣): هاهنا، يعني وسطها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی منصور فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو رافع سے دریافت کیا کہ میں جنازے کے کہاں کھڑا ہوں ؟ آپ نے اپنے جوتے اتارے پھر فرمایا یہاں، یعنی درمیان میں۔
١١٨٩٣ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد قال: صليت خلف الحسن ما لا أحصي على الجنائز للرجال والنساء فما رأيته (يبالي) (١) أين قام منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ میں نے حسن کے پیچھے مردوں اور عورتوں کے بیشمار جنازے پڑھے ہیں، میں نے نہیں دیکھا کہ انہوں نے اس بات کی پروا کی ہو کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔
١١٨٩٤ - حدثنا عباد بن العوام عن الشيباني عن الشعبي قال (١): يقوم الذي يصلي على الجنازة عند صدرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں جو نماز جنازہ ادا کر رہا ہے وہ میت کے سینے کے پاس کھڑا ہو۔
١١٨٩٥ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: يقام من المرأة حيال ثدييها، ومن الرجل فوق ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں عورت کے سینے کے سامنے اور مرد کے جنازے کے اس سے تھوڑا اوپر کھڑا ہو۔
١١٨٩٦ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن قال: المرأة عند فخذيها والرجل عند صدره في القيام.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ عورت کے ران کے پاس اور مرد کے سینے کے پاس کھڑا ہو۔
١١٨٩٧ - حدثنا حفص (عن) (١) أبي العميس عن أبي (حصين) (٢) قال: كان عبد اللَّه إذا صلى على الجنازة [قام وسطها، ويرفع (عن) (٣) صدر المرأة شيئًا] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی حصین فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ جب جنازہ پڑھتے تو اس کے درمیان میں کھڑے ہوتے اور عورت کے سینے سے کچھ اوپر کھڑے ہوتے۔
١١٨٩٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن سفيان عن ليث عن عطاء قال: إذا صلى الرجل على الجنازة قام عند الصدر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں جب آدمی نماز جنازہ پڑھائے تو اس کے سینے کے پاس کھڑا ہو۔
١١٨٩٩ - حدثنا شريك عن مغيرة عن إبراهيم قال: يقوم الذي يصلي على الجنازة عند صدرها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جو شخص نماز جنازہ پڑھائے وہ اس کے سینے کے پاس کھڑا ہو۔