کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کسی شخص کی نماز جنازہ کی کچھ تکبیریں فوت ہو جائیں تو کیا وہ ان کی قضا کرے یا نہ کرے اس بارے میں جو وارد ہوا ہے اس کا بیان
١١٨٢٥ - حدثنا حفص بن غياث عن محمد بن إسحاق عن نافع عن ابن عمر أنه لم يكن يقضي ما فاته من التكبير على الجنازة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کی جو تکبیریں فوت ہوجائیں ان کی وہ قضا نہیں کرے گا۔
١١٨٢٦ - حدثنا أبو الأحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا فاتتك تكبيرة أو ⦗٥٣⦘ (تكبيرتان) (١) على (الجنازة) (٢) فبادر (فكبر (٣) ما فاتك قبل أن ترفع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب نماز جنازہ کی ایک دو تکبیریں فوت ہوجائیں تو اٹھنے سے قبل ان تکبیروں کو جلدی سے کہہ لے۔
١١٨٢٧ - حدثنا حماد بن مسعدة عن ابن أبي ذئب عن قارظ بن شيبة عن سعيد ابن المسيب قال: يبني على ما فاته من التكبير على (الجنازة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ کی جو تکبیریں فوت ہوجائیں ان کی بنا (قضا) کرے گا۔
١١٨٢٨ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد قال: يكبر ما أدرك (ويقضي) (١) ما سبقه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ جتنی تکبیریں مل جائیں وہ ادا کرے اور جو گزر چکی ہیں ان کی قضا کرے ۔ اور حسن فرماتے ہیں جو مل جائیں وہ تو کہہ لے لیکن جو رہ گئی ہیں ان کی قضا نہ کرے۔
١١٨٣٠ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن الشعبي (وعطاء) (١) قالا: لا تقض ما فاتك من التكبير على الجنازة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو تکبیرات فوت ہوجائیں ان کی قضا نہیں ہے۔
١١٨٣١ - حدثنا (١) غندر عن شعبة عن حماد قال: (يقضي) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں قضا کرے گا۔
١١٨٣٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن شعبة عن قتادة قال: يكبر ما أدرك (ولا) (١) يقضي ما فاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ جتنی تکبیریں مل جائیں ان کو کہہ لے اور جو فوت ہوگئی ہیں ان کی قضا نہ کرے۔
١١٨٣٣ - حدثنا أبو أحمد (محمد) (١) بن عبد اللَّه (بن) (٢) الزبير عن مبارك عن يعقوب عن مطر عن حميد بن عبد الرحمن قال: يقضي ما فاته من التكبير على الجنازة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبد الرحمن فرماتے ہیں نماز جنازہ کی جتنی تکبیریں فوت ہوگئی ہیں ان کی قضاء کرے۔