کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: میت کو غسل دینے کیلئے بیری کے پتے نہ ملیں تو خطمی اور اشنان کے پودوں سے غسل دیا جائے گا
١١٢٣٢ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن إبراهيم عن الأسود قال: قلت لعائشة: يغسل رأس البيت بخطمي؟ فقالت: لا (تعنتوا) (١) (ميتكم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا میت کے سر کو خطمی سے دھو سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اپنے مردوں کو خوا مخواہ سامنے مت لاؤ (ظاہر مت کرو) ۔
١١٢٣٣ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إن لم يكن سدر فلا يضرك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب تمہارے پاس میت کو غسل دینے کے لئے بیری کے پتے نہ ہوں تو کوئی حرج اور نقصان نہیں ہے
١١٢٣٤ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (هشام) (١) عن محمد قال: لا (يغسلونه) (٢) بخطمي وهم يقدرون على (السدر) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ (صحابہ کرام ) بیری کے پتوں پر قدرت کے وقت خطمی سے غسل نہ دیا کرتے تھے۔
١١٢٣٥ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن أنه قال في الميت: اغسله بسدر فإن لم يوجد سدر فخطمي فإن لم (يكن) (١) خطمي فبأشنان.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ میں میت کو بیری کے پتوں سے غسل دوں گا، اگر وہ برای نہ پاؤں تو خطمی سے غسل دوں، اور اگر خطمی بھی نہ ملے تو اشنان کے پتوں سے غسل دوں۔
١١٢٣٦ - حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن أبي قلابة قال: إذا طال (ضنى) (١) الميت غسل بأشنان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ جب مریض کی بیماری لمبی ہوجائے تو اس کو اشنان کے پتوں سے غسل دیا جائے گا۔
١١٢٣٧ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن (عن) (١) زهير عن أبي إسحاق عن الضحاك قال: لا تغسلوني بالسدر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ مجھے بیری کے پتوں سے غسل مت دینا۔
١١٢٣٨ - حدثنا الفضل بن دكين عن شريك عن سالم عن سعيد بن جبير قال: إذا لم يكن سدر فخطمي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب میت کو غسل دینے کیلئے بیری کے پتے نہ ملیں تو خطمی سے غسل دے دو ۔