٩٧٦٨ - حدثنا شريك عن الأسود (بن) (١) قيس عن أبيه عن عمر قال: لا بأس بقضاء رمضان في العشر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ عشرۂ ذو الحجہ میں رمضان کی قضا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٧٦٩ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي (قال: من كان عليه) (١) صوم من رمضان فلا (يقضه) (٢) في ذي الحجة فإنه شهر (نسك) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس پر رمضان کی قضا واجب ہو وہ عشرۂ ذوالحجہ میں اسے ادانہ کرے کیونکہ یہ نسک کا مہینہ ہے۔
٩٧٧٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عثمان بن موهب عن أبي هريرة قال: (ابدأ) (١) بالفريضة، لا بأس أن (تصومها) (٢) في العشر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ فرض کو مقدم رکھو اور عشرۂ ذو الحجہ میں اس کی قضاء کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٧٧١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن سعيد بن جبير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ فرض کو مقد م رکھا جائے گا اور عشرۂ ذوالحجہ میں رمضان کے روزوں کی قضا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٧٧٢ - وعن حماد عن إبراهيم (قالا) (١): يبدأ بالفريضة، (لا بأس) (٢) أن يصومها (في العشر) (٣).
٩٧٧٣ - حدثنا (١) عبدة عن سعيد عن قتادة عن ابن المسيب أنه كان لا يرى بأسًا أن يقضي رمضان في العشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رمضان کے روزوں کی قضا عشرۂ ذوالحجہ میں کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
٩٧٧٤ - حدثنا غندر عن ابن أبي عروبة عن أبي معشر عن إبراهيم قال: لا بأس بقضاء رمضان في العشر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ رمضان کے روزں کی قضا عشرۂ ذوالحجہ میں کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
٩٧٧٥ - حدثنا إسماعيل عن ليث عن عطاء وطاوس ومجاهد قالوا: اقض رمضان متى شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت طاوس اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ رمضان کی قضا جب چاہو کرلو۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
٩٧٧٧ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔